Brailvi Books

فضائلِ دعا
230 - 322
    عرض کی: دو تہائی۔

     فرمایا: ''ہاں'' 

    عرض کی: کُل دعا کے عوض دُرُود مقرر کروں۔ 

    فرمایا: ''ایسا کریگا تو خدا تیرے دنیا وآخر ت کے سب کام بنا دے گا۔''(۱)

    اور بیشک دُرُود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دُعا ہے اور جس قدر اس کے فوائد وبرکات مُصلِّی (یعنی درود شریف پڑھنے والے)پر عائد ہوتے ہیں ہرگز ہرگز اپنے لیے دعا میں نہیں بلکہ ان کے لئے دعا تمام امتِ مرحومہ کے لیے دعا ہے کہ سب انہیں کے دامنِ دولت سے وابستہ ہیں۔  ؎
سلامتِ ہمہ آفاق در سلامت تُست(2)
    دُوم(۲): ذکر ِاِلٰہی۔

    بیہقی نے ''شعب الایمان''میں بُکَیْربن عتیق انہوں نے سالم بن عبد اللہ انہوں نے اپنے باپ عبد اللہ بن عمر انہوں نے اپنے والد حضرت فاروق اعظم انہوں نے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ، حضور نے رَبُّ العزت ذی الجلال تَقَدَّسَتْ أَسْمَاؤُہ،سے روایت کی کہ فرماتا ہے:
    ((من شغلہ ذکري عن مسألتي أعطیتُہ أفضل ما أعطي السائلین))۔
    ''جسے میر ی یاد میرے مانگے سے باز رکھے، میں اسے بہتر اس عطا کا بخشوں جو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''المعجم الکبیر''، الحدیث:۳۵۷۴، ج۴، ص۳۵.

و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۲۱۳۰۰، ج۸، ص۵۰.

2                   ع    	میں کیا بتاؤں تمنائے زندگی کیا ہے 

        			حضورآپ سلامت رہیں کمی کیا ہے
Flag Counter