Brailvi Books

فضائلِ دعا
229 - 322
سے حضور کیلئے کس قدر مقرر کروں؟ 

    فرمایا: ''جتنی چاہے۔'' 

    میں نے عرض کی: چہارم۔

    فرمایا: جس قدر چاہے، اور زیادہ کرے تو تیرے لئے بہتر ہے۔

    میں نے عرض کی: نصف۔

    فرمایا: ''جتنی چاہے، اور زیادہ کرے تو تیرے لیے بہتر ہے۔''

     میں نے عرض کی: اپنی کُل دُعا حضور کے لئے کردوں، یعنی اپنی کل دعا کے عوض حضور پر دُرُود بھیجا کروں؟ 

    فرمایا: ''ایسا کریگا تو اللہ تعالیٰ تیرے سب مُہِمَّات (اَہم اورمشکل کاموں میں)کفایت کریگا اور تیرے گناہ بخش دیگا۔'' (۱)

    احمد وطبرانی باسناد حسن راوی: وھذا حدیث الطبراني(یعنی یہ طبرانی کی حدیث کے الفاظ ہیں) کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنی تہائی دعا حضور کے لیے کروں؟ 

    فرمایا: ''اگر تو چاہے۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''سنن الترمذي''، کتاب صفۃ القیامۃ، باب في ترغیب في ذکر اللہ... إلخ، الحدیث:۲۴۶۵، ج۴، ص۲۰۷.

و''المستدرک''، کتاب التفسیر، الحدیث:۳۶۳۱، ج۳، ص۱۹۸. 

و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث:۲۱۲۹۹-۲۱۳۰۰، ج۸، ص۵۰.
Flag Counter