سے حضور کیلئے کس قدر مقرر کروں؟
فرمایا: ''جتنی چاہے۔''
میں نے عرض کی: چہارم۔
فرمایا: جس قدر چاہے، اور زیادہ کرے تو تیرے لئے بہتر ہے۔
میں نے عرض کی: نصف۔
فرمایا: ''جتنی چاہے، اور زیادہ کرے تو تیرے لیے بہتر ہے۔''
میں نے عرض کی: اپنی کُل دُعا حضور کے لئے کردوں، یعنی اپنی کل دعا کے عوض حضور پر دُرُود بھیجا کروں؟
فرمایا: ''ایسا کریگا تو اللہ تعالیٰ تیرے سب مُہِمَّات (اَہم اورمشکل کاموں میں)کفایت کریگا اور تیرے گناہ بخش دیگا۔'' (۱)
احمد وطبرانی باسناد حسن راوی: وھذا حدیث الطبراني(یعنی یہ طبرانی کی حدیث کے الفاظ ہیں) کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنی تہائی دعا حضور کے لیے کروں؟
فرمایا: ''اگر تو چاہے۔''