الدیلمي عن ابن عمررضي اللہ تعالٰی عنھماعن النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((دعاء المحسن إلیہ للمحسن لا یردّ))۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1دیلمی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے راوی کہ چار دعائیں رَدّ نہیں کی جاتی: حاجی کی دعا جب تک کہ لوٹ نہ آئے اورغازی کی دعا یہاں تک کہ واپس ہو۔ (الحدیث)
''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الحدیث:۳۳۰۱، ج۱، ص۴۳، (بحوالہ دیلمی).
2اور بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھماسے اسنادِ متماسک کے ساتھ روایت کیا کہ پانچ قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں پھر مذکورہ بالاافراد کا ذکر فرمایا۔
''شعب الإیمان''، باب في الرجاء من اللہ تعالی، الحدیث:۱۱۲۵، ج۲، ص۴۷.
3 یعنی: اور اس کا تذکرہ ربیعہ بن وقاص سے مذکورہ بالا روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے۔
4 دیلمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ جس شخص نے کسی پر احسان کیا تو احسان کرنے والے کے حق میں اسکی دعا رَدّ نہیں ہوتی۔
''المسند الفردوس'' للدیلمي، ج۱، ص۳۸۶، الحدیث:۲۸۶۳.