دُوازدَہُم (۱۲):قال الرضاء: عمرہ کرنے والا۔
حدیث شریف میں ہے: ''حج وعمرہ والے خدا کے مھمان ہیں، دیتا ہے انہیں جو مانگیں اور قبول فرماتا ہے جو دعا کریں۔ ''
رواہ البیھقي(اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا)۔(2)
سِیزدَہُم (۱۳):قال الرضاء: مریض کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
''جب بیمار کے پاس جاؤ ، اس سے اپنے لیے دعاچاہو کہ اس کی دعا مثل دعائے ملائکہ ہے۔''رواہ ابن ماجہ عن عمر رضي اللہ تعالٰی عنہ۔(3)
دوسری حدیث شریف میں ہے: ''مریض کی دعا رَدّ نہیں ہوتی، یہاں تک کہ اچھا ہو۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 اس حدیث مبارکہ کو بیہقی اور دیلمی نے روایت کیا اور یہ حدیث مبارکہ آگے (ہفدہم میں) آئیگی ۔ ''شعب الإیمان''، باب في الرجاء من اللہ تعالی، ذکر فصول في والدعاء... إلخ، الحدیث:۱۱۲۵، ج۲، ص۴۷. 2 ''شعب الإیمان''، باب في المناسک، فضل الحج والعمرۃ، الحدیث: ۴۱۰۶-۴۱۰۹، ج۳، ص۴۷۶-۴۷۷. 3 اس حدیث کو ابن ماجہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ''سنن ابن ماجہ'' ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء في عیادۃ المریض، الحدیث: ۱۴۴۱، ج۲، ص۱۹۱.