Brailvi Books

فضائلِ دعا
222 - 322
    نَہُم (۹):قال الرضاء: والدین کی دعا اپنی اولاد کے حق میں، ایک حدیث شریف ذکر کی جاتی ہے کہ ''یہ دعا اُمت کے لیے دعا ئے نبی کے مثل ہوتی ہے۔''
    رواہ الدیلمي عن أنس رضي اللہ تعالٰی عنہ۔(1)
    دَہُم (۱۰): قال الرضاء:اولاد کی دعا والدین کے حق میں۔
    أبو نعیم عن واثلۃ بن الأسقع رضي اللہ تعالٰی عنہ عن النبي صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: ((أربع دعواتھم مستجابۃ: الإمام العادل والرجل یدعو لأخیہ بظھر الغیب ودعوۃ المظلوم ورجل یدعو لوالدیہ))۔(2)
    یَازْدَہُم (۱۱): قال الرضاء: حاجی کی دعا جب تک اپنے گھر پہنچے۔

     حدیث شریف میں ہے: ''جب تو حاجی سے ملے، اسے سلام کر اور مصافحہ کر اور درخواست کر کہ وہ تیرے لئے استغفار کرے، قبل اس کے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو کہ وہ مغفور ہے۔''
    أخرجہ الإمام أحمد عن ابن عمر رضي اللہ تعالٰی عنھما۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 اس حدیث کو دیلمی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

''المسند الفردوس'' للدیلمي، الحدیث:۲۸۵۹، ج۱، ص۳۸۶.

2ابو نعیم ، واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اوروہ مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راوی: چار آدمیوں کی دعائیں قبول ہیں: (۱)عادل بادشاہ، (۲)وہ شخص کہ اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کیلئے دعا کرے، اور(۳)مظلوم کی دعا، اور(۴)وہ شخص جو اپنے والدین کیلئے دعا کرے ۔ 

''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الحدیث:۳۳۰۲، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۳.

3اس حدیث کی تخریج امام احمد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے کی۔

''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، ج۲،ص۳۵۱، ۵۳۷۱.
Flag Counter