Brailvi Books

فضائلِ دعا
221 - 322
عنھما: ((خمس دعوات یستجاب لھن)) فذکرھن وقال: ((وأسرع ھذہ الدعوات إجابۃ دعوۃ الأخ لأخیہ بظھر الغیب))۔(1)
    بلکہ تیسری حدیث میں ارشاد ہوا کہ ''اس سے زیادہ جلد قبول ہونے والی کوئی دعا نہیں۔''
    رواہ الترمذي عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالٰی عنھما ونحوہ للطبراني وغیرہ عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ تعالٰی عنھما۔(2)
    چوتھی حدیث شریف میں آیا: ''یہ دعا رَدّ نہیں ہوتی۔''
    البزار عن عمران بن حصین رضي اللہ تعالٰی عنھما۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 بیہقی ''شعب الایمان'' میں صالح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں: پانچ دعائیں مقبول ہیں : پھر وہ ذکر کیں یعنی مظلوم، حاجی،مجاہد کہ جہاد کیلئے نکلے، مریض اورمسلمان کی مسلمان کے لئے اسکی غیر موجودگی میں دعا کرنا پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان میں نہایت جلد قبول ہونے والی دعا ، ایک مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے لئے اسکی غیر موجودگی میں مانگی گئی دعا ہے۔

''شعب الإیمان''، الحدیث: ۱۱۲۵، ج۲، ص۴۶-۴۷.

2 اس حدیث کو ترمذی اور اسی کی مثل طبرانی اور دیگر محدثین کرام نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھماسے روایت کیا۔

''سنن الترمذي''، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء في دعوۃ الأخ... إلخ، الحدیث:۳۸۵، ج۳، ص۳۹۵.

3 اس حدیث کو بزار نے عمران بن حُصَین رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت کیا۔

''مسند البزار''، الحدیث:۳۵۷۷، ج۹، ص۵۲.
Flag Counter