| فضائلِ دعا |
بزار کے یہاں حدیثِ ابو ہریرہ ان الفاظ سے ہے: ''تین شخص ہیں کہ اللہ عزوجل پر حق ہے کہ ان کی کوئی دعا رَدّ نہ کرے: روزہ دار تا افطار اور مظلوم تا انتقام اور مسافر تا رجوع۔'')o (1)
ہَفْتُم(۷): روزہ دار۔
قال الرضاء: خصوصاً وقتِ افطار۔)o
ہَشْتُم(۸): مسلمان کہ مسلمان کے لیے اس کی غَیْبَت(غیر موجودگی)میں دُعا مانگے۔
قال الرضاء: حدیث شر یف میں ہے:
''یہ دعا نہایت جلد قبول ہوتی ہے۔ ''فرشتے کہتے ہیںـ:((آمین ولک بمثل ذالک))۔
''اس کے حق میں تیری دعا قبول اور تجھے بھی اسی طرح کی نعمت حصول۔''(2)
دوسری حدیث میں فرمایا:
''یہ دعا حاجی وغازی ومریض ومظلوم کی دعاؤں سے بھی زیادہ جلد قبول ہوتی ہے۔''البیھقي في ''الشعب'' بسند صالح عن ابن عباس رضي اللہ تعالٰی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الحدیث:۳۳۱۶، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۴، (بحوالہ بزار). 2 ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الدعاء بظھر الغیب، الحدیث:۱۵۳۴-۱۵۳۵، ج۲، ص۱۲۶-۱۲۷. و''صحیح مسلم''، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمین بظہر الغیب، الحدیث: ۲۷۳۲-۲۷۳۳، ص۱۴۶۲.