Brailvi Books

فضائلِ دعا
220 - 322
    بزار کے یہاں حدیثِ ابو ہریرہ ان الفاظ سے ہے: ''تین شخص ہیں کہ اللہ عزوجل پر حق ہے کہ ان کی کوئی دعا رَدّ نہ کرے: روزہ دار تا افطار اور مظلوم تا انتقام اور مسافر تا رجوع۔'')o (1)

    ہَفْتُم(۷): روزہ دار۔

    قال الرضاء: خصوصاً وقتِ افطار۔)o 

    ہَشْتُم(۸): مسلمان کہ مسلمان کے لیے اس کی غَیْبَت(غیر موجودگی)میں دُعا مانگے۔ 

    قال الرضاء: حدیث شر یف میں ہے: 

    ''یہ دعا نہایت جلد قبول ہوتی ہے۔ ''فرشتے کہتے ہیںـ:
    ((آمین ولک بمثل ذالک))۔
    ''اس کے حق میں تیری دعا قبول اور تجھے بھی اسی طرح کی نعمت حصول۔''(2)

    دوسری حدیث میں فرمایا: 

    ''یہ دعا حاجی وغازی ومریض ومظلوم کی دعاؤں سے بھی زیادہ جلد قبول ہوتی ہے۔''
    البیھقي في ''الشعب'' بسند صالح عن ابن عباس رضي اللہ تعالٰی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الحدیث:۳۳۱۶، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۴، (بحوالہ بزار).

2 ''سنن أبي داود''، کتاب الصلاۃ، باب الدعاء بظھر الغیب، الحدیث:۱۵۳۴-۱۵۳۵، ج۲، ص۱۲۶-۱۲۷.

و''صحیح مسلم''، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الدعاء للمسلمین بظہر الغیب، الحدیث: ۲۷۳۲-۲۷۳۳، ص۱۴۶۲.
Flag Counter