Brailvi Books

فضائلِ دعا
219 - 322
    پَنْجم(۵): ماں باپ کا فرمانبردار ۔

    شَشم(۶): مسافر۔
    قال الرضاء: رواہ ابن ماجہ والعقیلي والبیھقي عن أبي ہریرۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ والبزار وزاد: ((حتی یرجع)) والضیاء عن أنس وأحمد والطبراني عن عقبۃ بن عامر رضي اللہ تعالٰی عنہم۔(1)
    متعدد احادیث میں ارشاد ہوا کہ ''اس کی(یعنی مسافر کی) دعا ضرور مستجاب ہے ، جس میں کچھ شک نہیں۔ ''
    رواہ أحمد والبخاري في ''الأدب المفرد'' وأبو داود والترمذي عن أبي ہریرۃ ومنھا حدیث ابن ماجہ والضیاء المذکوران۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 مسافر کی دعا کی قبولیت والی حدیث کوابن ماجہ ، عقیلی، بیہقی اور بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا جبکہ بزار نے ''حتی یرجع'' (یہاں تک کہ لوٹ آئے)کے الفاظ کا اضافہ کیا،اور اسی حدیث کو ضیاء نے حضرت انس اور احمد وطبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کیا۔

''سنن ابن ماجہ''، باب دعوۃ الوالد ودعوۃ المظلوم، الحدیث: ۳۸۶۲، ج۴، ص۲۸۱.

''کنز العمال''، کتاب الأذکار، الحدیث:۳۳۱۶، ج۱، الجزء الثاني، ص۴۴، (بحوالہ بزار).

2 اس حدیث کو امام احمدنے'' مسند احمد''میں اور بخاری نے ''الادب المفرد'' میں اور ابو داؤد وترمذی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، اور ان متعدد احادیث میں سے ابن ماجہ اور ضیاء کی روایت کردہ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ بھی ہے۔

''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۷۵۱۳، ج۳، ص۷۱.

و''الأدب المفرد''، باب دعوۃ الوالدین، الحدیث: ۳۲، ص۱۹.
Flag Counter