Brailvi Books

فضائلِ دعا
217 - 322
ہر خیر وفلاح کے قابل ہیں تو کسی کا طفیلی ہوکر پائے گابخلاف اس صورت کے کہ صرف اپنے یا اور بعض احباب کے لیے چاہی، باقی کے لئے پسند نہ کی تو ایک تو عام مومنین کی بدخواہی، دوسرے کمالِ ایمان کا نقصان۔ 

    نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    ((لا یؤمن أحدکم حتی یحبّ لأخیہ ما یحبّ لنفسہ))۔
    ''تم میں کوئی مومن کامل نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی مسلمان کیلئے وہی نہ چاہے جو خود اپنے لئے چاہتا ہے۔''(1)

    اور فرماتے ہیں:
 ((الدین النصح لکلّ مسلم))۔
    ''دین ہر مسلمان کی خیر خواہی کا نام ہے۔ ''(2)

    ولہٰذا احادیث میں تعمیمِ دعا (یعنی: اپنی دعا میں سب مسلمانوں کو شامل کرنے)کے بہت فضائل وارد ہوئے۔
کما أسلفناہ في فصل الآداب، واللہ تعالی أعلم بالصواب۔)o(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''صحیح البخاري''، کتاب الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ، الحدیث: ۱۳، ج۱، ص۱۶.

2 ''سنن النساءي''، کتاب البیعۃ، النصیحۃ للإمام، الحدیث: ۴۲۰۳-۴۲۰۶، ص۶۸۴-۶۸۵.

3 جیسا کہ ہم نے پیچھے آدابِ دعا کی فصل (یعنی فصل دوم)میں ذکر کیا اور اللہ عزوجل ہی حق کو زیادہ جاننے والا ہے۔
Flag Counter