Brailvi Books

فضائلِ دعا
216 - 322
    کہ اگرچہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر دُرود کا نزول اور مسلمانوں کو رُشد وہدایت تک وصول، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو وسیلہ ملنا اور اللہ تعالیٰ کا اصحابِ کرام سے راضی ہونا اور بیت مکرم کی عزت وکرامت اور حضور کے اَعدا پر غضب ولعنت سب یقینی باتیں ہیں مگر ان دعاؤں میں وہی منافع مذکورہ ہیں، تو فضول واستہزاء نہیں ہو سکتیں۔ 

    أقول:علاوہ بریں ان سب میں وہ تاویل جو انہیں طلبِ حاصل سے جدا کر دے ممکن وللتفصیل محلّ آخر.(یعنی اس مسئلہ کی تفصیل کسی اور مقام پر کی جائیگی)۔ 

ٍ    مسئلہ ۱۵:قال الرضاء: دعا میں حَجْر وتنگی نہ کرے ۔مثلاً :یوں نہ مانگے کہ تنہا مجھ پررحم فرما،یا صرف مجھے اورمیرے فلاں فلاں دوستوں کو نعمت بخش ۔ حدیث میں ہے: ایک اعرابی نے دعا کی :
اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِيْ وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَّلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَداً۔
    ''الٰہی !مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر اپنی رحمت نازل فرما(اور ھمارے سوا کسی اورپر رحمت نہ فرما)۔ فرمایا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے:
 ((لقد حَجَّرْتَ وَاسِعاً))
''بیشک تو نے بڑی وسعت والی چیز کو تنگ کر دیا۔''(1)

    اے عزیز! رحمتِ الٰہی شاملِ اَنام ہے(یعنی تمام مخلوق کے ساتھ ہے) اور اس کا انعام عالَم کو عام:
 (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ)(2)
    جو نیک بات اپنے لئے درکار ہو جب تمام مسلمانوں کے لئے چاہے گا اگر خود مستحق نہیں اس خیر خواہیِ عام کی برکت سے مستحق ہوجائے گایایوں کہ ان میں بعض تو یقینا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''صحیح البخاري''، کتاب الأدب، باب رحمۃ الناس والبھائم، الحدیث:۶۰۱۰، ص۵۰۸.

2 ترجمہ کنزالایمان:''میری رحمت ہر چیزکو گھیرے ہے ۔'' (پ۹، الأعراف: ۱۵۶)
Flag Counter