| فضائلِ دعا |
علامہ شمس الدین سخاوی اسے لکھ کر فرماتے ہیں:صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اولاد پر ماں باپ کی بد دعا رَدّ نہیں ہوتی تو اس حدیث کو ان سے توفیق دیا (تطبیق دینی)چاہے(1)، انتہی۔
أقول وباللہ التوفیق:
بد دعا دو۲ طور پر ہوتی ہے:
ایک یہ کہ داعی (یعنی دعا کرنے والے)کا قلب حقیقۃً اس کا یہ ضرر(نقصان)نہیں چاہتا، یہاں تک کہ اگر واقع ہو تو خود سخت صدمے میں گرفتار ہو۔ جیسے: ماں باپ غصے میں اپنی اولاد کو کوس لیتے ہیں مگر دل سے اس کا مرنا یا تباہ ہونا نہیں چاہتے اور اگر ایسا ہو تو اس پر ان سے زیادہ بے چین ہونے والا کوئی نہ ہوگا۔ دیلمی کی حدیث میں اسی قسمِ بد دعا کیلئے وارد کہ حضوررَءُ وْفٌ الرَّحِیْمِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کا مقبول نہ ہونا اللہ تعالیٰ سے مانگا۔ نظیر اس کی وہ حدیث صحیح ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے عرض کی:''الٰہی! میں بشر ہوں بشر کی طرح غضب فرماتا ہوں تو جسے میں لعنت کروں یا بد دعا دوں اسے تو اس کے حق میں کفارہ واجر وباعثِ طہارت کر۔''(2)
دوسرے اس کے خلاف کہ داعی کا دل حقیقۃً اس سے بیزار اور اُس کے اس ضرر کا خواستْگار (امیدوار)ہے اور یہ بات ماں باپ کو معاذ اللہ اسی وقت ہوگی جب اولاد اپنی شقاوت سے عقوق کو (یعنی: نافرمانی وسرکشی کو) اس درجہ حد سے گزار دے کہ ان کا دل واقعی اس کی طرف سے سیاہ ہو جائے اور اصلاً محبت نام کو نہ رہے بلکہ عداوت آ جائے۔ ماں باپ کی ایسی ہی بد دعا کے لیے فرماتے ہیں کہ رَدّ نہیں ہوتی۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''المقاصد الحسنۃ''، حرف الدال المھملۃ، تحت الحدیث: ۴۸۷، ص۲۲۱. 2 ''صحیح مسلم''، کتاب البر والصلۃ، باب من لعنہ النبي۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۶۰۰-۲۶۰۳، ص۱۴۰۱-۱۴۰۳.