| فضائلِ دعا |
اور وہ یقینا اجماعاً جائز بلکہ واقع ہے) اس مسئلہ میں کیا مفید کہ بعض کے لیے اس کا عدم ووقوعِ عذاب، تواتر واجماع سے ثابت تو یہاں کلامِ ''حلیہ'' محلِ کلام ہے اور مسئلہ ائمہ کیا مشائخ سے بھی منقول نہیں کہ دوسروں کو مجالِ سَخُن(اعتراض کی گنجائش) نہ رہے، پس أَحْوَط یہی ہے (یعنی: زیادہ احتیاط اسی میں ہے) کہ اس صورتِ ثالثہ کے معنی ثانی (تیسری صورت کے دوسرے معنی یعنی مغفرت تامہ کاملہ)سے احتراز کرے۔ شاید مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، نے اسی لئے صرف کلامِ امام قرافی پر اقتصار فرمایا کہ رجحان واحتیاط اسی طرف ہے۔
واللہ تعالٰی أعلم۔
ھذا ما ظھر لي في النظر الحاضر، فتأمّل لعلّ اللہ یحدث بعد ذلک أمراً۔(1) مسئلہ ۱۳: قال الرضاء: اپنے اور اپنے احباب کے نفس واہل ومال ووَلَد(بچوں) پر بد دعا نہ کرے کیا معلوم کہ وقتِ اجابت ہو اور بعد وقوعِ بَلا (مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد) پھر ندامت ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اپنی جانوں پر بد دعا نہ کرو اور اپنی اولاد پر بد دعا نہ کرو اور اپنے خادم پر بددعا نہ کرو اور اپنے اموال پر بددعا نہ کرو کہیں اجابت کی گھڑی سے موافق نہ ہو۔''ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 یہ وہ کلام ہے جو اس وقت غور وفکر سے مجھ پر منکشف ہوا پس تو غور کر شاید اللہ عزوجل اسکے بعد کوئی نیا حکم بھیجے۔