Brailvi Books

فضائلِ دعا
211 - 322
    أقول: اس کے پھر دو ۲ معنی محتمل:

    ایک یہ کہ مغفرت بمعنی
'' تَجَاوُزْ فِی الْجُمْلَہ''
کے لیں تو حاصل یہ ہوگا کہ الٰہی! کسی مسلمان کو اس کے کسی گناہ کی پوری سزا نہ دے، اس کے جواز میں بھی کچھ کلام نہیں کہ مفادِ نصوص مطلقاً تعذیبِ بعض عُصاۃ ہے نہ کہ استیفائے جزائے بعض ذنوب(1)بلکہ کریم کبھی اِسْتِقْصَاء نہیں فرماتا (یعنی مالک کریم عزوجل کبھی پوری باز پرس نہیں فرماتا)
ألا تری! إلی قولہ تعالی: (عَرَّفَ بَعْضَہ، وَاَعْرَضَ عَنْم بَعْضٍ) (2)
جب أَکْرَمُ الخَلْق مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی پورا مُوَاخَذَہ نہیں فرمایا(یعنی پوری بازپرس نہیں فرمائی) تو ان کا مولیٰ عزوجل تو أَکْرَمُ الْأَکْرَمِین ہے۔ 

    دوسرے یہ کہ مغفرتِ تامہ کاملہ مراد لی جائے یعنی ہر مسلمان کے ہر گناہ کی پوری مغفرت کر کہ کسی مسلمان کے کسی گناہ پر اصلاً مُوَاخَذَہ نہ کیا جائے، یہ بیشک تکذیبِ نصوص کی طرف جائے گا اور اسی کو امام قرافی ناجائز فرماتے ہیں۔ اور بیشک یہی
مِنْ حَیْثُ الدَّلِیْل
راجح نظر آتا ہے اور اس طرح کی دعا کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں اور مسلمین کے حق میں خلفِ وعید کا جواز (جس سے خود حسبِ تصریحِ ''حلیہ''ودیگر قائلان جوازِ عفو ومغفرت مراد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1یعنی احادیث مبارکہ میں جو بعض مسلمانوں کے عذاب کا ذکر ہے اس کا مقصود ومراد یہ ہے کہ بعض گنہگاروں کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا یہ نہیں کہ وہ اپنے تمام گناہوں کی پوری پوری سزا پائیں گے۔ 

2کیا تو نے اللہ عزوجل کایہ فرمان نہ سنا: ''تو نبی نے اُسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی۔''( کنز الایمان)

 								(پ۲۸، التحریم: ۳)
Flag Counter