Brailvi Books

فضائلِ دعا
210 - 322
    اور اگر صرف تعمیم ثانی پر اکتفاء کرے، مثلاً:اپنے لئے کہے:الٰہی! میرے سب گناہ چھوٹے بڑے، ظاہر، چھپے، اگلے، پچھلے معاف فرما، یا کہے:الٰہی!میرے اور میرے والدین ومشائخ واحباب واصول وفروع اور تمام اہلسنّت کے لئے ایسی مغفرت کر جو اصلاً کسی گناہ کا نام نہ رکھے، جب بھی قطعاً جائز اور اس قسم کی دعا بھی حدیث میں وارد اور مسلمین میں مُتَوارِث(یعنی مسلمانوں میں چلی آرہی ہے)، ان دونوں صورتوں کے جواز میں تو کسی کا کلام نہیں ہو سکتا کہ اس میں اصلاً کسی نص کی تکذیب نہیں۔ 

    صورتِ ثانیہ(دوسری صورت یعنی تعمیم ذنوب) میں تو ظاہر ہے کہ نصوص صرف اس قدر پر دال کہ بعض مسلمین مُعذَّب ہوں گے، ممکن کہ وہ داعی اور اس کے والدین ومشائخ واحباب وجمیع اہلسنّت کے سِوا اور لوگ ہوں۔

     اسی طرح صورتِ اُولیٰ(پہلی صورت یعنی تعمیم مسلمین) میں کوئی حرج نہیں کہ ہر مسلمان کے لئے فی الجملہ مغفرت اور بعض پر بعض ذُنوب (گناہوں) کی وجہ سے عذاب ہونے میں تنافی نہیں۔ 

    أقول: بعض نصوص سے نکال سکتے ہیں کہ فی الجملہ مغفرت ہر مسلمان کے لیے ہو گی، احادیثِ صریحہ ناطق(یعنی احادیث کے ارشاد)کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے دوزخ سے نکال لیا جائے تو ضرور ہے کہ یہ نکلنا قبل پوری سزا پالینے کے ہو ورنہ شفاعت کا اثر کیا ہوا۔

    اب رہی صورت ثالثہ(تیسری صورت)یعنی داعی دونوں تعمیمیں کرے مثلاً:کہے:الٰہی!سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے۔