| فضائلِ دعا |
نے ''دُرِّ مختار'' میں انکی تَبْعِیَّت کی (یعنی: علامہ ابن نجیم اور محقق علائی نے علامہ حلبی کی پیروی کی)۔(1)
مگر اس میں صریح خدشہ ہے کہ جواز صرف عقلی ہے نہ کہ شرعی کہ حدیث مُتَواتِرَۃُ الْمَعْنی سے بعض مؤمنین کی تعذیب ثابت اور نووی وابی ولقانی نے اس پر اجماع نقل کیا اور جواز ِدعا کے لیے صرف جواز عقلی باوجود استحالہ شرعی کافی ہونا مسلَّم نہیں، اس طرف محقق شامی نے ''رَدُّ المحتار'' میں اشارہ فرمایا۔(2) رہا اظہارِ شفقت سے عذر، میں کہتا ہوں:وہ محلِ تکذیبِ نصوص میں قابلِ سماعت نہیں(3) فتأمّل۔ثمّ أقول وباللہ التوفیق:
یہاں تعمیمیں دو ہیں: ایک تعمیمِ مسلمین، دوسری تعمیمِ ذنوب۔
اگر داعی (دعا مانگنے والا)صرف تعمیم اوّل پر قناعت کرے، مثلاً کہے:اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ(4)یا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّۃِ مُحَمَّدٍصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ(5)
تو قطعا ًجائز ہے اور اس کا امام قرافی کو بھی انکار نہیں اور اس کے فضل میں احادیث وارِد اور اس کا جواز آیات سے مستفاد اور یہ طَبَقَہ بَطَبَقَہ مسلمین میں بلا نکیر شائع ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۱، ص۵۷۷-۵۷۸. و''الدر المختار''، فصل في بیان تألیف الصلاۃ إلی انتہائہا، ج۲، ص۲۸۸. 2 ''ردّ المحتار''، کتاب الصلاۃ، فصل في بیان تألیف الصلاۃ إلی انتہائہا، مطلب في خلف الوعید وحکم الدعائ... إلخ، ج۲، ص۲۸۹. 3 یعنی: یہ عذر پیش کرنا کہ تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی بخشش چاہنا ان سے شفقت کا اظہار کرنا ہے تو یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ اس سے آیات واحادیث کی تکذیب لازم آتی ہے۔ 4 اے اللہ! میری ، میرے ماں باپ اورتمام مسلمان مردوں اور مسلمانوں عورتوں کی بخشش فرما۔ 5 اے اللہ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بخش دے۔