Brailvi Books

فضائلِ دعا
208 - 322
الْمُسْلِمِیْنَ
بے نیتِ تعمیمِ حقیقی جائز ہے،(1)
ھذا حاصل کلام قَرَافيّ، ذکرہ في ''شرح المنیۃ'' لابن أمیر الحاج۔(2)
    قال الرضاء: یہ دوسرا مسئلہ معرکۃ الآرا ہے، علامہ قَرَافی وغیرہ علماتو عدمِ جواز کی طرف گئے اور علامہ کرمانی نے اس میں مُنَازَعت کی (یعنی مخالفت کی)جسے ''شرح مُنیہ'' میں رَد کر دیا پھر مُحَقِّق حَلْبِی نے اس بنا پر کہ مسلمانوں کے لیے خلفِ وعید بمعنی عطا ومغفرت جائز (بلکہ قطعاً واقع ہے)اور اس دُعا میں برادرانِ دینی پر شفقت سمجھی جاتی ہے اور جوازِ دعا جوازِ مغفرت پر مبنی ہے نہ کہ وقوع پر، تو عدم وقوعِ مغفرتِ جمیع کی حدیثیں اس دُعا کے خلاف نہیں، اس کے جواز کی طرف میل کیا(3) علامہ زین نے ''بحر الرائق''، پھر علامہ محقق علائی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ہاں یہ دعا کہ ''اے اللہ! میری اور تمام مسلمانوں کی بخشش فرما'' اگر اس میں نیت یہ نہ ہو کہ تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی بخشش ہو جائے، تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔ 

2 یہ امام قرافی کے کلام کا خلاصہ ہے جسے علامہ حلبی نے ''شرح منیہ'' میں ذکر کیا۔

3 یعنی: یہ مسئلہ کہ ''تمام مسلمانوں کے تمام گناہوں کی بخشش ہو جائے'' اس میں علمائے کرام کا اختلاف ہے علامہ قرافی وغیرہ اسے ناجائز کہتے ہیں جبکہ علامہ کرمانی نے اس میں اختلاف کیا جس کا محقق حلبی نے ''شرح منیہ'' میں رَدّ فرمایا پھر محقق حلبی نے اس کے جواز کی طرف مائل ہوتے ہوئے یہ تاویل کی کہ خلفِ وعید بمعنی عطا ومغفرت، مسلمانوں کے حق میں جائز بلکہ قطعاً واقع ہے، نیز اس دعا میں مسلمانوں پر شفقت بھی ہے اور دعا کا جواز، مغفرت کے جائز ہونے پر ہے نہ کہ اس کے واقع ہو جانے پر، تو وہ احادیث کریمہ جن میں تمام گناہوں کی مغفرت کا واقع نہ ہونا وارد ہوا، وہ احادیث کریمہ اس جوازِ مغفرت کے خلاف نہیں ہیں۔
Flag Counter