Brailvi Books

فضائلِ دعا
207 - 322
الْاَرْضِ)(1)
اور
 (فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا)(2)
أَيْ:مِنَ الْکُفْرِ فَیَعُمُّ الْمُسْلِمِیْنَ(3)
ان کے منافی اور اس دعا کے جواز کے لیے کافی نہیں(4) کہ افعال سیاق ثبوت میں اجماعاً عموم پر دلالت نہیں کرتے اور بر تقدیر تسلیم اس جگہ خصوص مراد ہے تا(کہ) قواعدِ شرع سے خلاف لازم نہ آئے(5) ہاں!
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ وَلِجَمِیْعِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1اللہ عزوجل کا فرمان: ''زمین والوں کیلئے معافی مانگتے ہیں۔'' (ترجمہ کنز الایمان)

(پ۲۵، الشوری: ۵)

2 ترجمہ کنز الایمان: ''تو انھیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی۔'' (پ۲۴، المؤمن :۷)

3 یعنی: جنہوں نے کفر سے توبہ کی اور یہ آیت مسلمانوں کو بھی شامل ہے۔ 

4 یعنی قرآن پاک کی یہ مذکورہ آیات ان احادیث مبارکہ کے منافی نہیں کہ جن میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہو ااور نہ ہی یہ آیاتِ کریمہ سب مسلمانوں کے سب گناہوں کی ایسی بخشش کیلئے دعا کو جائز قرار دیتی ہیں کہ اصلاً کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے۔ 

5 یہاں افعال سے مراد وہ ہیں کہ جو فرشتوں سے صادر ہوئے یعنی تمام زمین والوں کیلئے بخشش کی دعا کرنا ۔ تو اس بات پر اجماع ہوچکا ہے کہ ان کے افعال کی طرح ہمیں بھی وہی فعل کرنا یعنی تمام مسلمانوں کے سب گناہوں کی ایسی مغفرت طلب کرنا کہ اصلاً کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے ، جائز نہیں کہ یہ انہیں کا خاصہ ہے ،اوراگر بالفرض یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ھمارے حق میں بھی وہ افعال جائز ہیں تو پھر ہم یہ کہیں گے کہ اس جگہ خصوص مراد ہے یعنی زمین والوں سے مراد یہاں سب زمین والے نہیں بلکہ بعض مراد ہیں اوریوں بھی کہا جاسکتاہے کہ سب زمین والے ہی مراد ہیں مگر ان سب کے تمام گناہوں کی ایسی بخشش مراد نہیں کہ اصلاً کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے بلکہ تمام مسلمانوں کیلئے فی الجملہ مغفرت طلب کی گئی ہے اور تمام مسلمانوں کیلئے فی الجملہ مغفرت اور بعض پر بعض گناہوں کے سبب عذاب ہونے میں کوئی تضاد نہیں۔
Flag Counter