Brailvi Books

فضائلِ دعا
206 - 322
    مسئلہ۱۲:نظر بدلیلِ سابق یہ دعا کہ خدایا!سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے جائز نہیں(3)کہ جس طرح وہاں تکذیبِ آیات لازم آتی ہے، اس دعا سے ان احادیث کی تکذیب ہوتی ہے جن میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہوا، اور ان کا آحاد ہونا اس جرأت کا مُجَوِّز نہیں(4) اور قولہ عزَّوجلَّ:
 وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''جدّ الممتار'' کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۲۱-۲۲۲.

و''ہامش الحلبۃ'' للإمام أحمد رضا خان علیہ الرحمۃ، ص۷۳-۷۴.

2 سمجھ لے کیونکہ یہ قدموں کے پھسلنے کا مقام ہے، اور علامہ حلبی نے ''حلبہ'' میں اس بارے میں طویل کلام فرمایا ہے جسکا خلاصہ علامہ شامی نے ''ردّ المحتار'' میں بیان فرماتے ہوئے اور کلام زائد فرمایا اور مکمل کلام غیر محرر ہے، اگر یہ پیچیدہ کلام نہ ہوتا تو میں تمہیں ان (صاحب''رد المحتار'' و''حلبہ'')کے دلائل اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات سے آگاہ کرتا، ہاں! ''رد المحتار'' اور ''حلبہ'' پر جو میں نے حواشی لکھے ہیں ان میں مَیں نے اسے بیان کیا ہے اور ممکن ہے کہ درستی ان دو حکموں سے آگے نہ بڑھے جنکی طرف میں نے ابھی اصل کتاب میں اشارہ کیا ہے، اور پاکیزہ وبلند شان والا رَب عزوجل بہتر جانتا ہے۔

3 یعنی: مذکورہ بالا دلیل کی روشنی میں یہ دعا کرنا کہ ''یا اللہ! سب مسلمانوں کے سب گناہ بخش دے'' جائز نہیں ۔ 

4 یعنی: جن احادیث میں بعض مسلمانوں کا دوزخ میں جانا وارد ہوا اگرچہ وہ احادیث خبر واحد کے زُمرے سے ہیں اس کے باوجود اس بات کو کسی طور پر بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتاکہ سب مسلمانوں کے سب گناہوں کی ایسی بخشش طلب کر نا کہ کوئی گناہ نام کو بھی باقی نہ رہے فرمانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تکذیب کرنا ہے۔
Flag Counter