Brailvi Books

فضائلِ دعا
205 - 322
ہے بلکہ عند التفتیش اسے دو سخت آفتوں کا سامنا ہے، شرعاً محال مان کر اب جو استدعا کرتا ہے آیا واقعی وقوع چاہتا ہے یا یونہی لفظ بے معنی بک رہا ہے۔ 

    اوّل میں حق سبحانہ وتعالیٰ سے اس کی خبر کی تکذیب چاہنا ،

    اور دُوُم عَبَث واِسْتِہزاء ہے اور دونوں کا پہلو معاذ اللہ جانبِ کفر جھکتا ہے۔ بہرحال صورتِ سابقہ یقینا کفر اور ثانی اَشد حرام، سخت کبیرہ جس سے توبہ وتجدید اسلام ونکاح لازم۔(1)
    فافھم فإنَّ المقام مزلّۃ الأقدام وقد أطال الکلام ھھنا العلامۃ الحلبي في ''الحلیۃ''(2) ولخَّصہ في ''ردّ المحتار''(3) وزاد، والکلّ غیرمحرَّر ولولا غرابۃ المقام لنبأتک بما لھما وعلیھما وقد بیناہ فیما علقناہ علیھما(1) ولعلّ الحق لا یتجاوز عن الحکمین الذین أشرتُ إلیھما، واللہ سبحنہ وتعالٰی أعلم۔)o (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی اگر کفار ومشرکین کی بخشش ونجات کو شرعاً جائز سمجھتا ہے، تو یہ آیات قرآنیہ کے انکار وتکذیب کے سبب کھلا کفر ہے اور اگر شرعاً ان کی مغفرت ونجات کو جائز نہ سمجھتے ہوئے ان کیلئے بخشش کی دعا کرتا ہے تو یہ کفر نہیں البتہ شدید حرام وسخت کبیرہ گناہ ہے کہ اس وجہ سے یہ دو بڑی آفتوں میں مبتلا ہوا پہلی یہ کہ جانتا ہے کہ انکی کسی صورت بخشش نہیں پھر بھی انکی بخشش کی دعا سے انکی واقعی مغفرت کا طلبگار ہے جو انتہائی درجہ کی بے باکی اور خبر خداوندی کا کذب چاہنا ہے یا پھر یونہی فضول بات بک رہا ہے اور معاذ اللہ! اللہ عزوجل سے ٹھٹا اور استہزاء کر رہا ہے اور ان دونوں باتوں میں کفر کا اندیشہ ہے جو سخت حرام لہٰذا اس سے تجدید ایمان ونکاح دونوں لازم ہیں۔ 

2 وہي: ''الحلبۃ'' أي:''حلبۃ المجلّي شرح منیۃ المصلّي'' ولکن في بلادنا معروفۃ بــ''الحلیۃ''.

''الحلبۃ ''، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج۲، ص۲۵۵۔۲۵۶.

3 ''رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب في خلف الوعید۔۔۔ إلخ، ج۲، ص۲۸۸-۲۸۹.
Flag Counter