Brailvi Books

فضائلِ دعا
204 - 322
اللہ تعالٰی علیہ وسلم لأبي طالب: ((لأستغفرنّ لک ما لم أُنہ عنک))۔(1)
    علامہ شہاب الدین قرافی مالکی(2)تصریح کرتے ہیں کہ کفار کے لیے دعائے مغفرت کفر ہے کہ آیہ کریمہ:
 (اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ)(3)
میں معاذ اللہ کذب قولِ الٰہی چاہتا ہے۔(4)

    قال الرضاء: یعنی اگر کفار کی مغفرت اوران کا دوزخ سے نجات پانا شرعاً جائز مانتا ہے تو بیشک مُنْکِرِ نُصُوصِ قَاطِعَہ ہے ورنہ یہ کلمہ حرام ونارَوا ہے کہ اس سے انکار لازم آتا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''بخاری'' و''مسلم'' میں ،موجود ہے کہ مذکورہ آیت کے نزول کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوطالب کے بارے میں یہ فرمانا ہے کہ میں تمہارے لئے اس وقت تک بخشش طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے میرے رب کی جانب سے تمہارے لئے منع نہ کیا جائے۔

''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب إذا قال المشرک عند الموت: لاإلہ إلا اللہ، الحدیث: ۱۳۶۰، ج۱، ص۱۰۶. 

و''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب الدلیل علی صحۃ الإسلام ... إلخ، الحدیث: ۱۲۴، ص۳۱-۳۲.

2قاہرہ میں امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار سے متصل علاقہ کو ''قرافہ''کہتے ہیں ہیں چونکہ یہ اسی علاقہ کے رہنے والے تھے اس وجہ سے ان کو قرافی کہتے ہیں۔

3 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے۔'' (پ۵، النسآء: ۱۱۶)

4 یعنی: معاذ اللہ! اللہ تعالیٰ کے فرمان کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس نے تو فرما دیا کہ وہ مشرکین کو نہیں بخشے گا اور یہ چاہتا ہے کہ ان کی بخشش ہو جائے۔ 

''الفروق'' للقرافي، الفرق الثاني والسبعون والمأتان، القسم الأول، ج۴، ۴۴۳.
Flag Counter