| فضائلِ دعا |
ایسی جگہ بہت غل مچاتے ہیں اور علانیہ کفر کر کے مسلمانوں کو اپنی تکفیر سے روکنا چاہتے ہیں۔واللہ الھادي۔)o
مسئلہ ۱۰: کسی مسلمان کو یہ بد دعا کہ تجھ پر خدا کا غضب نازل ہو اور تو آگ یا دوزخ میں داخل ہو، نہ دے کہ حدیث شریف میں اس کی ممانعت وارد ہے۔(1)
مسئلہ۱۱: جو کافر مرا -والعیاذ باللہ تعالیٰ- اس کے لیے دعائے مغفرت حرام ہے۔قال اللہ عزَّوجلَّ:
(مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ؕ اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾) (2)
وقد ثبت في ''الصحیحین'' أنّ سبب نزول ہذہ الآیۃ قولہ صلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''سنن أبي داود''، کتاب الأدب، باب في اللعن، الحدیث: ۴۹۰۶، ج۴، ص۳۶۲. 2 اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا:''نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ُانہیں کھل چکا کہ وہ دوزخی ہیں اورابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اُس سے کرچکا تھا ، پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا(لاتعلق ہوگیا) ۔بے شک ابراہیم ضرور بہت آہیں کرنے والامتحمل ہے ۔''(ترجمہ کنز الایمان) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۱۳-۱۱۴)