| فضائلِ دعا |
یونہی ائمہ دین وعلمائے معتمَدین نے تصریح فرما دی ہے کہ اہلِ قبلہ سے مراد وہ ہیں ''جو تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتے ہیں''اُنہیں کی تکفیر جائز نہیں اور جو ضروریاتِ دین سے ایک بات کا منکر ہو وہ اہل قبلہ ہی سے نہیں، اس کی تکفیر میں شک بھی کفر ہے نہ کہ اِنکار، ''شرح مواقف''و''حاشیہ چلپی'' و''شرح فقہ اکبر'' و''حواشی در مختار'' وغیرہا میں اس کی تحقیق ہے۔(1)بڑا حوالہ حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دیا جاتا ہے کہ وہ اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتے، بیشک مگر وہی جو حقیقۃً اہل قبلہ ہیں نہ فقط وہ کہ کلمہ پڑھیں اور قبلے کو منہ کریں اگرچہ کھلے کفر بکیں، خود سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی عقائد کی کتاب ''فقہ اکبر شریف''میں فرماتے ہیں:
صفاتہ في الأزل غیر محدثۃ ولا مخلوقۃ فمن قال: إنَّھا مخلوقۃ أو محدثۃ أو وقف فیھا أوشک فیھا فھوکافر باللہ تعالی۔
''اللہ تعالیٰ کی صفتیں ازلی ہیں، نہ حادث، نہ مخلوق تو جو اُنہیں مخلوق یا حادث بتائے یا ان کے بارے میں توقف کرے یا شک لائے وہ کافر ہے۔''(2)
امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:چھ۶ مہینے مناظرے کے بعد میری اور امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے اس پر مستقر ہوئی (یعنی میرا اور امام اعظم کااس بات پر اتفاق ہوا)کہ جو کوئی قرآن عظیم کو مخلوق کہے کافر ہے۔(3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''منح الروض الأزہر ''، فصل في الکفر صریحاً وکنایۃً، ص۱۸۸. و''ردّ المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۸. 2 ''الفقہ الأکبر''، الباري جلّ شأنہ موصوف في الأزل... إلخ، ص۲۵. 3 ''منح الروض الأزہر''، القرآن کلام اللہ غیر مخلوق ولا حادث، ص۲۶. و''الحدیقۃ الندیۃ''، والقرآن کلام اللہ تعالی غیر مخلوق، ج۱، ص۲۵۸.