Brailvi Books

فضائلِ دعا
200 - 322
خود کفر ہے، یہی ائمہ وعلماء کہ اقوال مذکورہ لکھ چکے ، جابجا تصریح فرمائی (یعنی متعدد مقامات پر صراحت و وضاحت فرمائی)کہ ''جو ضروریاتِ دین سے کسی شئے کے منکِر کو کافر نہ جانے ، خود کافر ہے''۔ ''شفاء شریف''و''وجیز امام کردری ؔ''و''در مختار''وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے:
    من شکَّ في کفرہ وعذابہ فقد کفر۔
    ''جو ایسے کے کفر وعذاب میں شک لائے خود کافر ہوجائے۔''(1)

    ایک اورننانوے وجہ کے یہ معنی ہیں کہ اس کے کلام میں سو پہلو نکلتے ہوں ننانوے جانبِ کفر جاتے ہوں اورایک طرفِ اسلام تو معنی اسلام ہی پرحَمْل واجب، کہ با وصفِ احتمالِ اسلام، حکمِ کفر جائز نہیں(2) نہ یہ کہ جو ننانوے باتیں کفر کی کرے اور صرف ایک بات اسلام کی تو اسے مسلمان کہا جائے گا۔ 

    حاشا(ہر گز)یہ کسی مسلمان کا مذہب نہیں یوں تو یہودی بھی اللہ کو ایک، موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلامتک انبیاء کو نبی، ''توراتِ مقدس ''کو کلام اللہ، قیامت وجنت ونار کو حق جانتے ہیں یہ ایک کیا صدہا باتیں اسلام کی ہوئیں، پھر کیا انہیں مسلم کہا جائے گا یااُنہیں مسلمان کہنے والا کافر نہ ہو جائے گا!حاشا للہ!بلکہ ہزارہا باتیں اسلام کی کرے اور ایک کفر کی، مثلاً:''قرآن عظیم''ونماز پڑھے، روزہ رکھے، زکوٰۃ دے، حج کرے اور ساتھ ہی بت کو بھی سجدہ کرے تو قطعاً کافر ہو گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''الدر المختار''، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج۶، ص۳۵۶.

و''الشفا''، الباب الأول في بیان ما ہو حقّہ صلی اللہ علیہ وسلم... إلخ، ج۲، ص۲۱۶.

2 یعنی جب تک اس متکلم کے مسلمان ہونے کا احتمال باقی ہے تو اس پر صورت مذکورہ میں کفر کا حکم لگانا جائز نہیں۔
Flag Counter