| فضائلِ دعا |
قال الرضاء: لہٰذا ھمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ اگر کسی کے کلام میں ننانوے وجہ کفر کی نکلتی ہوں اورایک وجہ اسلام کی تو مفتی پر واجب ہے کہ وجہ اسلام کی طرف مَیل کرے (1)
((فإنّ الإسلام یَعلو ولا یُعلَی))
(بے شک اسلام ہمیشہ غالب رہنے والا ہے نہ کہ مغلوب ہونے والا)(2)ولہٰذا ھمارے ائمہ فرماتے ہیں: لا نکفر أحداً من أھل القبلۃ۔ ' 'ہم اہل قبلہ سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔''(3)
مگر یہاں ایک شدید فاحِش مُغَالطہ بعض گمراہ بد دین دیا کرتے ہیں کہ ان اَقوال سے استدلال کر کے منکرانِ ضروریاتِ دین(4) کی تکفیر بھی بند کرنی چاہتے ہیں حالانکہ یہــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی مفتی اس جانب مائل ہو اوراسی پر فتوی دے جس جانب اس کلام کرنے والے کے کلام سے اس کے اسلام کا اورمسلمان ہونے کا پہلو نکلتا ہو۔
''منح الروض الأزہر شرح فقہ الاکبر''، مطلب یجب معرفۃ المکفرات، ص۱۶۲.
و''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب السیر، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۸۳.
2''صحیح البخاري''، کتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي...إلخ، ج۱، ص۴۵۵.
3 ''النہر الفائق''، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۲، ص۱۹۴.
و''الدر المختار''، کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۳۳-۱۳۴.
4 ضروریاتِ دین: ''وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص وعام جانتے ہوں''، جیسے اللہ عزوجل کی وحدانیت، انبیاکی نبوت، جنت ونار، حشرونشر وغیرہا، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں شمار نہ کئے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائل علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں۔
(''بہارِ شریعت''، ایمان وکفر کا بیان، حصہ اول، ج۱، ص۱۷۲، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)