Brailvi Books

فضائلِ دعا
198 - 322
    اسی واسطے امام عبداللہ یافعی یمنی ''مرآۃ الجنان ''میں فرماتے ہیں:کسی مسلمان پر لعنت اصلاً جائز نہیں اورجو کسی مسلمان پر لعنت کرے وہ ملعون ہے۔(1) 

    اور حدیث شریف میں بھی اسی طرف اشارہ واقع ہے:
 ((لا ینبغي للمؤمن أن یکون لعَّاناً)) رواہ الترمذي۔(2)
    شیخ مُحقِّق دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اصل عادت وشیوہ اہلسنّت ترکِ سبّ ولعن ہے(3)
 ((المؤمن لیس بلعَّان))
 (یعنی مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا)۔(4) 

    بعض علماء فرماتے ہیں:''اہلسنّت کی خوبیوں میں سے ہے کہ کسی پرلعنت نہیں کرتے اور کسی کو کافر نہیں کہتے اور اہل بدعت کی برائیوں سے ہے کہ بعض ان کا بعض ۱؎ کو کافر کہتا اور بعض ان کا بعض پر لعنت کرتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''مرآۃ الجنان''، السنۃ: ۵۰۴، ج۳، ص۱۳۴.

2کسی بھی مومن کو یہ بات زیب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو، اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا۔

''سنن الترمذي''، کتاب الطب، باب ماجاء في اللعن والطعن، ج۳، الحدیث:۲۰۲۶، ص۴۱۰.

3 یعنی اہلسنّت کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ لوگوں کو برابھلا کہیں یا گالی دیں یا لعنت کریں بلکہ ہم اہلسنّت کا شیوہ تو ان چیزوں سے دور رہنا ہے۔

''أشعۃ اللمعات''، کتاب الآداب، باب حفظ اللسان من الغیبۃ والشتم، ج۴، ص۷۱.

4 ''إحیاء العلوم''، کتاب آفات اللسان، ج۳، ص۱۵۴. 

؎۱ شیعہ خوارج کوکافر کہتے اور ان پر لعنت کرتے ہیں اورخوارج شیعہ کو کافر وملعون جانتے ہیں بلکہ اپنے مذہب والوں کی لعن وتشنیع میں باک (خوف)نہیں کرتے،جو شخص انکے حالات سے واقف ہے وہ خوب جانتاہے کہ لعن وتکفیر تمام اہلِ بدعت خصوصاً شیعہ کا وظیفہ ہے ۔ ۱۲ منہ قدس سرہ ۔
Flag Counter