| فضائلِ دعا |
اصل اس باب میں یہ ہے کہ لعنت کرنا کسی پر ثواب نہیں اگر کوئی شخص دن بھر شیطان پر لعنت کرتا رہے ، کیا فائدہ حاصل ہو ۱؎ اس سے یہ بہتر ہے کہ اس قدر وقت ذکر وتلاوت ودُرُود میں صَرْف کرے کہ ثوابِ عظیم ہاتھ آئے، اگر اس کام میں ھمارے لئے کچھ فائدہ ہوتا پروردگارِ عالَم ابلیس پر لعنت کرنے کا حکم دیتا، پس احتیاط اسی میں ہے کہ جس کے انجام سے اطلاع نہ ہو اس پرلعنت نہ کرے اگر وہ لائق لعنت کے ہے تو اس پر لعنت کہنے میں تضییعِ وقت ہے (یعنی وقت کو ضائع کرنا ہے)اورجو وہ لعنت کا مستحق نہیں تو گناہِ بے لذت۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر کی بے حرمتی کرچکے ، خانہ خدا پر چلے راہ میں مسلم بن عقبہ مر گیا، حصین بن نمیر نے مع فوجِ کثیر مکہ میں پہنچ کر بیت اللہ کو جلادیا اور وہاں کے رہنے والوں پر طرح طرح کا ظلم وستم کیا۔ ۱۲منہ قدس سرہ ۔
(انظر ''فتح الباري''، کتاب التفسیر، باب قولہ: ثاني اثنین... إلخ، تحت الحدیث: ۴۶۶۶، ج۸، ص ۲۷۹.)
۱ ؎ ملائکہ وانبیاء کہ بحکمِ جناب کبریا کسی پرلعنت کرتے ہیں بسببِ امتثالِ امر (حکم بجالانے)کے مشکور وماجور ہوتے ہیں جس طرح زبانیہ دوزخ (وہ فرشتے جو دوزخیوں کو آگ میں دھکیلیں گے)اور وہ فرشتے جو عذاب پر مامور ہیں اپنے کام میں محمود ہیں گویا یہ بھی کافروں کے حق میں ایک قسم کا عذاب ہے کہ مقبولانِ جنابِ احدیت اس کے ایصال پر مامور وماجور ہوتے ہیں، دوسرے شخص کو کہ قیدیوں کی تعذیب پر مقرر نہیں ان کو مارنا اور ایذا دینا موجبِ اجر نہیں اور آیہ کریمہ: (عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ) (ترجمہ کنزالایمان: ''ان پر لعنت ہے اللہ اورفرشتوں اورآدمیوں سب کی۔''((پ۲، البقرۃ :۱۶۱)) اخبار ہے نہ کہ امر کہ سب آدمیوں کا مامور بنص ہونا ثابت ہو، فَتَفَکَّرْ۔ ۱۲ منہ قدس سرہ۔