Brailvi Books

فضائلِ دعا
196 - 322
بے رحمیوں اورسنگدلیوں کے ساتھ شہید کیا اورکوئی دقیقہ ۱؎  ہِتکِ حرمتِ حرم کا باقی نہ چھوڑا ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

=    امام غزالی ''احیاء العلوم'' میں لکھتے ہیں کہ حکم یزید کا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کیلئے اصلاً ثابت نہیں اور بلا تحقیقات مسلمان کی طرف نسبت کبیرہ کی جائز نہیں إلی أن قال لعنِ اشخاص میں خطر ہے پس اجتناب چاہے اور ترکِ لعن ابلیس میں بھی خطر نہیں فضلًا عن غیرہ (جب ابلیس کو کوئی لعنت نہ کرنے میں ایمان کو کوئی خطرہ نہیں تودوسروں کو لعنت نہ کرنے میں ایمان کوخطرہ کیسے ہوسکتاہے!) واللہ تعالٰی أعلم. ۱۲ منہ قدس سرہ العزیز۔ 

(''إحیاء علوم الدین''، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الثامنۃ: اللعن، ج۳، ص۱۵۴)

    اور بعض علماء اس کی تکفیر ولعن میں توقف (سکوت اختیار)کرتے ہیں اور یہی راجح اور یہی اَسلم اور یہی ھمارے ائمہ ہدیٰ کا مذہبِ اَصح واَقوم ہے۔

(''المسامرۃ بشرح المسایرۃ''، ما جری بین علي ومعاویۃ رضي اللہ عنھما، ص۳۱۵-۳۱۶. و''الصواعق المحرقۃ''، الخاتمۃ في بیان اعتقاد أہل السنۃ... إلخ، ص۲۲۱)

۱ ؎ ا س خبیث نے مسلم بن عقبہ مرّی کو مدینہ سکینہ پر بھیج کر ۱۷۰۰ سترہ سو مہاجرین واَنصار وتابعین کِبار کو شہید کرایا۔ تین روز اہلِ مدینہ لوٹ اورقتل اورانواعِ مصائب میں مبتلا رہے اور فوج ِاشقیاء نے مسجد ِاقدس میں گھوڑے باندھے اورکسی کو وہاں نماز نہ پڑھنے دی،اہل حرم سے یزید کی غلامی پر بجبر بیعت لی کہ چاہے بیچے ، چاہے آزاد کرے ، جو کہتا میں خدا ورسول کے حکم پر بیعت کرتا ہوں اسے شہید کرتے ۔ 

(''فتح الباري''، کتاب الفتن، باب إذا قال عند قوم شیأً... إلخ، تحت الحدیث: ۷۱۱۴، ج۱۳، ص۶۰-۶۱. و''البدایۃ والنہایۃ''، وقعۃ الحرث، ج۵، ص۷۳۱-۷۳۲. و''الصواعق المحرقۃ''، الخاتمۃ في بیان اعتقاد أہل السنۃ... إلخ، ص۲۲۱-۲۲۲.)
Flag Counter