ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ساتھ جنگ بدر میں کیا تھا''اوریہ بات فی الواقع کفر ہے ، سوا اِس کے اورافعال واقوال اس رُوسِیاہ سے منقول ہیں جو کفر وارتداد پر صریح دال ہوں ،شراب اورحرام کاری اس کے وقت میں علانیہ جاری ہوئی اور بے حرمتی حرمین شریفین اوروہاں کے باشندوں کی اس کے لشکر کے ہاتھ سے واقع ہوئی ۔
(انظر ''منح الروض الأزہر''، الکبیرۃ لا تخرج عن الإیمان، ص۷۳، و''الصواعق المحرقۃ''، الخاتمۃ في بیان اعتقاد أہل السنۃ... إلخ، ص۲۲۰)
اوربعض علماء اس کی تکفیر ولعن سے انکار کرتے اورکہتے ہیں: اجازت ان حرکتوں اورامام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کی اس سے بدلیلِ قطعی ثابت نہیں اوریہ کلمہ کہ''میں نے ان سے جنگ بدر کا بدلہ لیا''، برتقدیر ثبوت ، اَحاد کے مرتبہ سے متجاوز نہیں ہوسکتا والیقین لایزول إلاّ بیقین مثلہ(اور یقینی بات کو رد کرنے کیلئے اسی کی مثل یقینی بات درکار ہوتی ہے)کما تقرر في موضعہ ۔
غایت کار اس کا یہ ہے کہ فاسق وفاجر تھاا وراحکام شرعیہ پر قائم نہ تھا اورفاسق پر لعنت جائز نہیں ۔
فاضل قونوی ''شرح عمدۃ النسفی'' میں لکھتے ہیں : صاحبِ کبیرہ پر لعنت نہ کی جائے کہ ایمان اس کا اس کے ساتھ ہے ، ارتکابِ کبیرہ سے کم نہیں ہوتا اورمسلمان پرلعنت جائز نہیں۔
(''منح الروض الأزہر''، الکبیرۃ لا تخرج عن الإیمان، ص۷۳، (نقلاً عن القونوي).)
ملا علی قاری ''شرح فقہ اکبر ''میں قولِ شارح ''عقائد'' کا یعنی: نحن لا نتوقف في شأنہ بل في إیمانہ فلعنۃ اللہ علیہ وعلٰی أنصارہ وأعوانہ مع اس کے دلائل کے رَد کرتے ہیں اور''خلاصہ'' وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حجاج ویزید پر لعنت کرنا نہ چاہیے اس لئے کہ پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل قبلہ کی لعنت سے ممانعت فرمائی ہے اورجو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے لعنت کرنا بعض اہل قبلہ پر منقول ہے؛ اس سبب سے ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام لوگوں کا حال جانتے تھے اورلوگ نہیں جانتے شاید وہ شخص منافق ہو یا بَاِعلامِ الٰہی اس کا کفر پر مرنا معلوم ہو۔
(''منح الروض الأزہر''، الکبیرۃ لا تخرج عن الإیمان، ص۷۲-۷۳، ملتقطاً.) =