ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر ان لوگوں کی اس بات کوما ن لیا جائے کہ ''کافر کو کافر مت کہو!کیا معلوم کب مسلمان ہوجائے'' توا س سے لازم آتاہے کہ پھر مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہا جائے کہ کیا معلوم کب بد مذہب یا کافر ہوجائے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ کتنے ایمان سے غافلوں کا مرتے وقت ایمان سلب کر لیا جاتاہے۔ والعیاذباللہ تعالیٰ
دراصل اس طرح کی ناسمجھی والی باتیں کرنے والوں کا ان حیلے بہانوں کو پیش کرنے سے مقصودِ اصلی یہ ہوتاہے کہ یہ حضرات جو چاہیں اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے پھریں،جس طرح چاہیں اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہیں، انہیں کوئی کچھ کہنے والا نہ ہو کہ میاں ! کافر کو بھی کافر مت کہو ہم تو پھر بھی کلمہ گو ہیں، مگر ان حضرات نے کلمہ طیبہ کے لوازمات کو بھلادیا کہ حقیقۃً کلمہ گوئی سے مقصودِ اصلی تو وہی اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کی شان والا صفات کو دل سے تسلیم کر کے ان کی توقیر بجا لانا ہے ۔ صرف گوشت کے لوتھڑے یعنی زبان سے کلمہ طیبہ کو رَٹ لینا کافی نہیں ، کیا دیکھتے نہیں کہ ھمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ میں منافقین بھی بظاہر کلمہ پڑھتے تھے مگر ایمان سے انہیں دور کا بھی علاقہ نہیں تھا۔
ان کی گستاخانہ عبارات وعقائد جاننے کیلئے ''بہارِ شریعت'' پہلی جلدکے حصہ اول میں ''ایمان وکفر کابیان'' مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کا مطالعہ فرمائیں۔
1 ''الطریقۃ المحمدیۃ''، المبحث الأول، النوع التاسع، ج۲، ص۲۳۰-۲۳۱.
؎۱ علماء، یزید کی تکفیر اوراس کی لعن کے بارے میں تین گروہ ہیں :
امام احمد اسے کافر اورلعنت اس پر جائز کہتے ہیں ؛ اس لئے کہ اس نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد کہا: ''میں نے ان کو اس کا بدلہ دیا جو انہوں نے قریش کے بزرگوں اورسرداروں کے *