Brailvi Books

فضائلِ دعا
193 - 322
لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ
 (ظالموں پر خدا کی لعنت)کہہ سکتے ہیں، کسی شخص خاص پر لعنت نہیں کر سکتے۔ 

    شیخ محقق(1)فرماتے ہیں:''لعنت کرنا کسی پر جائز نہیں سِوا اس کے جس کے کافر مرنے کی مُخبِرِ صادق (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)نے خبر دی، اور کافر مخصوص پر کہ ایمان اس کا دمِ اَخیر محتمل ہو(2)لعنت نہ کریں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''أشعۃ اللمعات''، کتاب الآداب، باب حفظ اللسان من الغیبۃ والشتم، ج۴، ص۷۱.

2 یعنی یہ احتمال کہ ہو سکتا ہے فلاں کافر مرتے وقت ایمان لے آیا ہو۔

    بعض مکارِ زمانہ اسی کو بنیا دبناکر بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دامِ فریب میں لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ''میاں !کافر کو بھی کافر مت کہو ! کیا معلوم کب مسلمان ہوجائے ؟''

    مقا مِ غور تو یہ ہے کہ پہلے خود کافر کہہ چکے ، پھر کہتے ہیں کافر مت کہو، حالانکہ خود قرآن مجید سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ کافر کو کافر ہی کہا جائے اور مومن کو مومن، کیا آپ غور نہیں کرتے کہ قرآن پاک میں کافروں کو کافرکہہ کر پکارا گیا ہے بلکہ قرآن پاک میں ایک مکمل سورۃ کا نام ہی ''سورۃ الکافرون'' رکھا گیا ہے ۔

    پیارے اسلامی بھائیو!کوئی عاقل شخص اس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتا کہ جو شئے جس وقت جس حالت میں ہو اسے اس وقت اسی کی جنس سے پکارا جائے گا ،مثلاً:گند م جب تک اپنی اصل حالت پر باقی ہے اسے گندم ہی کہا جائے گااور جب اسے پیس کر آٹا کردیا جائے تو پھر اسے کوئی بھی گندم کہنے کو تیار نہیں ہوگا بلکہ آٹا ہی کہا جائے گااورجب اس آٹے کی روٹی بنا لی جائے تو پھر اسے آٹا نہیں بلکہ روٹی کا نام دیا جائے گااور جب اس روٹی کو کھا کر فُضلے کی شکل میں خارج کردیا جائے تو پھر اسے روٹی نہیں بلکہ فضلہ کہا جائے گا، اس وقت ان حضرات کو یہ باتیں نہیں سوجھتی کہ گندم کو گندم مت کہو کیا معلوم کب آٹا ہو جائے اور آٹے کو آٹا مت کہو کیا معلوم کب روٹی ہوجائے وغیرہ۔۔۔۔۔۔
Flag Counter