| فضائلِ دعا |
جواب:لعنت لُغت میں بمعنی طَرْد واِبعاد (یعنی دُھتکار اوردوری)کے ہے اور اہل شریعت کبھی اس سے طَرْد واِبعادِ رحمتِ الٰہی وبِہِشْت سے، اور کبھی طرد واِبعادِ جنابِ قرب اور رحمتِ خاص ودرجہ سابقین سے مراد لیتے ہیں۔(1)
پہلے معنی کافروں کے لیے خاص ہیں۔ جس شخص کا کفر پر مرنا یقینی جیسے:ابو جہل، ابو لہب، فرعون، شیطان، ہامان اس پر لعنت جائز، انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام جن پر لعنت کرتے تھے، بَاِعلامِ الٰہی (اللہ عزوجل کے بتانے سے)ان کے کافر مرنے سے واقف تھے اور فرشتے بھی انہیں پر لعنت کرتے ہیں جن کی بد انجامی سے بَاِعلامِالٰہی واقف ہوتے ہیں یا انبیاء وملائکہ کافروں پر بوصفِ کفر لعنت کرتے ہیں یعنی:(لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ)
(2) کہتے ہیں۔
اوردوسری قسم گنہگاروں کو بھی شامل ہے، جس جگہ قرآن یا حدیث میں لفظ لعنت کا عُصاۃ (گنہگاروں) کے حق میں وارد ہے وہاں دوسرے معنی مراد ہیں، مگر جواز اس قسم کا بھی مقیَّد بوصفِ عام مذموم ہےلَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ
(جھوٹوں پر اللہ عزوجل کی لعنت)اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 لغت میں ''لعنت'' کے معنی ''دوری'' کے ہیں۔
شریعت کی اصطلاح میں لعنت کے معنی دو۲ طرح سے بیان کئے گئے ہیں:
(۱)اللہ عزوجل کی رحمت اور اسکی جنت سے دوری، تو کسی پر لعنت کرنے کے معنی کبھی تو یہ ہونگے کہ تو اللہ عزوجل کی رحمت وجنت سے دور ہو ۔
(۲) اور کبھی اللہ عزوجل کے قرب اور اسکی خاص رحمتوں سے دُوری، یا پچھلے نیک بندوں کو اسکی جناب میں جو مرتبہ ملا اس مرتبہ سے دوری مراد ہوگی۔
2 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ کی لعنت منکروں پر۔ ''(پ۱، البقرۃ: ۸۹)