| فضائلِ دعا |
کی تفسیر میں لکھتے ہیں: نصیب عارف کا یہ ہے کہ بلاؤں میں صبر کرے اور منکروں کے انکار سے متغیر نہ ہو بلکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرے کہ فرماتے تھے:
((اللّٰھم اھد قومي فإنّھم لا یعلمون))
''خدایا !میری قوم کو ہدایت فرما کہ وہ جانتے نہیں۔''
ہاں اگرکسی کافر کے ایمان نہ لانے پر یقین یا ظن غالب ہو اورجینے سے دین کا نقصان ہو یا کسی ظالم سے امید توبہ اورترکِ ظلم کی نہ ہو اوراس کا مرنا، تباہ ہونا خَلق کے حق میں مفید ہو، ایسے شخص پر بددعا درست ہے۔
سیدنا نوح علیہ الصلاۃ والسلامنے جب دیکھا کہ قوم کے سرکش اپنے کفر وعِناد سے باز نہ آئیں گے اور وَدّؔ وسُوَاع ؔویَغُوث ؔویَعُوقؔ ونَسْرؔ کو نہ چھوڑیں گے،(1)جنابِ الٰہی میں عرض کی:رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا)
''خدایا!زمین پر کافروں میں سے کوئی گھر والا نہ چھوڑ۔''
(پ۲۹، نوح: ۲۶)
اسی طرح حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے قِبْطِیوں پر دعا کی:
رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوَالِھِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوۡبِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ)
''خدایا! ان کے مال مٹا دے اور ان کے دلوں پر سختی کر کہ وہ ایمان نہ لائیں جب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کی قوم ان کی پوجا کرتی اور انکی عبادت چھوڑنے پرتیار نہ تھی، سورہ نوح کی آیت نمبر۲۳میں ان کا باقاعدہ ذکر موجودہے ۔مزید تفصیل کیلئے ''خزائن العرفان''، ص۶۸۶،'' نور العرفان، ص۹۱۲''اور ''فتاویٰ رضویہ''جلد۲۴، ص۵۷۳ کا مطالعہ فرمائیں۔