کی تفسیر میں کہتے ہیں:''مُعْتَدِین'' سے وہ لوگ مراد ہیں جو لوگوں کے کوسنے میں حد سے بڑھتے اور کہتے ہیں: اللہ ان کو خوار کرے، اللہ ان پر لعنت کرے۔(3)
مولانا یعقوب چرخی آیہ کریمہ:
(فَاجْتَبٰہُ رَبُّہ، فَجَعَلَہ، مِنَ الصّٰلِحِیْنَ)(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب في ثقیف وبني حنفیۃ، الحدیث: ۳۹۶۸، ج۵، ص۴۹۲.
2 ترجمہ کنز الایمان: ''بے شک حد سے بڑھنے والے اُسے پسند نہیں۔'' (پ۸، الأعراف:۵۵)
3 ''تفسیر البغوي''، پ۸، الأعراف، تحت الآیۃ: ۵۵، ج۲، ص۱۳۸.
وجدنا ہذا القول تحت الآیۃ: (اِنَّہ، لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ).
4 ترجمہ کنز الایمان: ''تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں)میں کر لیا۔''(پ۲۹، القلم: ۵۰)