ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ''صحیح البخاري''، کتاب الجھاد، باب الدعاء للمشرکین بالھدی لیتألفھم، الحدیث: ۲۹۳۷،ج۲، ص۲۹۱.
2 یہ بھی عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے۔
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ طائف کا قصد کیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر اشرافِ ثقیف یعنی عبد یالِیل بن عمرو بن عمیر اور اس کے بھائی مسعود اورحبیب کو اسلام کی دعوت دی مگر انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوت کا بُری طرح جواب دیا ، ایک بولا: اگر آپ کو خدا نے پیغمبربنایا ہے تو وہ کعبہ کا پردہ چاک کررہاہے، دوسرے نے کہا: کیا خدا کو پیغمبری کے لئے آپ کے سوا کوئی نہ ملا؟، تیسرے نے کہا: میں ہرگز آپ سے کلام نہیں کرسکتا، اگر آپ پیغمبری کے دعویٰ میں سچے ہیں تو آپ سے گفتگو کرنا خلافِ ادب ہے اور اگر جھوٹے ہیں تو قابلِ خطاب نہیں، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مایوس ہوکر واپس ہوئے تو انہوں نے کمینے لوگوں اور غلاموں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ابھارا جو آپ کیلئے انتہائی نازیبا اور گستاخانہ الفاظ کہتے اور تالیاں بجاتے ، اتنے میں لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دونوں طرف صفیں باندھ لیں جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم درمیان سے گزرے تو قدم مبارک اٹھاتے وقت آپ کے مقدس قدموں پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ نعلین مبارک خون سے بھرگئے ، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پتھروں کا صدمہ پہنچتا تو بیٹھ جاتے، مگر وہ بازو تھام کر کھڑا کردیتے ، جب چلنے لگتے تو پتھر برساتے اور ساتھ ساتھ ہنستے جاتے ، عتبہ اور شیبہ آپ کے سخت دشمن تھے مگر آپ کی اس حالت پر ان کے دل بھی نرم پڑگئے۔
(ماخوذ من''السیرۃ الحلبیۃ''، باب ذکر خروج النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی الطائف، ج۱، ص۴۹۸-۴۹۹. و''السیرۃ النبویۃ'' لابن ہشام، ص۱۶۷)