Brailvi Books

فضائلِ دعا
184 - 322
فرمایا:''یہ نہ کہو بلکہ کہو:
 ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُ))
''خدایا !ا س کو بخش دے، خدایا!اس پر رحم فرما۔''(1)

    طفیل بن عمرو دَوسی نے اپنی قوم کی شکایت کی اور عرض کی: یا رسول اللہ !دَوس پر دعا کیجئے(2) فرمایا:
((اللّٰھم اھد دَوساً وآت بھم))
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''سنن أبي داود''، باب في الحد في الخمر، الحدیث: ۴۴۷۷-۴۴۷۸، ج۴، ص۲۱۶-۲۱۷.

2 حضرت طفیل بن عمرو دوسی یمن کے مشہور قبیلے دوس کے فرد تھے ، یہ مکے ہی میں خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہوچکے تھے ، اور اس کے بعد اپنے وطن واپس گئے اور عرصہ تک وہیں رہے، خیبر کے موقع پر اپنے متبعین کے ساتھ خیبر ہی میں حاضر ہوئے پھر مدینہ طیبہ میں رہنے لگے ، جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے، ان کا خطاب ''ذوالنور'' بھی ہے، انہوں نے اسلام قبول کرتے وقت یہ عرض کیا تھا:مجھے دوس کی طرف بھیجئے اور مجھے کوئی نشانی عطا فرمائیے جس سے اُنھیں ہدایت نصیب ہو، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دعا فرمائی :اے اللہ! اسے نور عطافرما، اس دعا کی برکت سے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور چمکتا تھا، انہوں نے عرض کی: مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ یہ کہیں کہ اس کی صورت بگڑ گئی ہے تو یہ روشنی ان کے کوڑے کے کنارے منتقل ہوگئی، ان کا کوڑا اندھیری رات میں چمکتا تھا اسی لئے ان کا نام ''ذو النور''پڑا۔ ان کی یہ عرضداشت (یعنی دوس کی ہلاکت کی دعاکی درخواست )دوبارہ حاضری کے موقع پر تھی جب کہ وہ خیبر میں اپنے اسی۸۰ یانوے ۹۰ ساتھیوں کے ساتھ خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے تھے، انہوں نے یہ بھی عرض کیاتھا کہ دوس میں زنا اور سود عام ہے ان کی ہلاکت کی دعا کیجئے(تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی ہدایت کی دعا فرمائی)۔

(''نزہۃ القاري''، کتاب الجہاد، باب الدعا ء علی المشرکین... إلخ،ج۶، ص۲۲۷)
Flag Counter