Brailvi Books

فضائلِ دعا
183 - 322
    قال الرضاء:  خلاصہ یہ کہ دنیوی مُضَرَّتوں سے بچنے کے لئے موت کی تمنا ناجائز ہے اور دینی مضرت (دینی نقصان)کے خوف سے جائز
کما في ''الدرّ المختار'' و''الخلاصۃ'' وغیرھما۔)o (1)
    مسئلہ ۷: بے غرض صحیح شرعی کسی کے مرنے اور خرابی کی دعا نہ مانگے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
     ((إذا سمعتم الرجل یقول ھلک الناس فھو أَھلکُھم)).
    ''جب سنو تم کسی مرد کو کہ کہتا ہے لوگ ہلاک ہو ں ۱؎ تو وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔''(2)

    حدیث شریف میں ہے: ایک شرابی کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس حاضر لائے حضور نے حدمارنے کا حکم دیا کوئی اس کے دَھول مارتا(یعنی تھپڑ لگاتا)، کوئی جوتے، فرمایا:''اس کی ملامت کرو''کسی نے کہا:تجھ کو خدا کا خوف نہ آیا، کسی نے کہا:تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے نہ شرمایا، ایک نے کہا:
أَخْزَاکَ اللہُ
''خدا تجھے خوار کرے''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''الدر المختار''، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹، ص۶۹۱۔

و''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الکراہیۃ، الفصل الثاني في العبادات، ج۴، ص۳۴۰.

و''الہندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج۵، ص۳۷۹.

۱؎  یعنی جو شخص اوروں کی ہلاکت وخرابی چاہتا ہے وہ سب سے زیادہ ہلاک وخراب ہوتا ہے اور بعض ھلک الناسکو جملہ خبریہ کہتے ہیں۔ یعنی جو اوروں کو ہلاکت میں مبتلا وبرا اور اپنے آپ کو ان سے بڑا جانتا ہے ، وہ سب سے زیادہ ہلاکت میں مبتلا اور برا ہے۔ واللہ أعلم بالصواب ۱۲ منہ قدس سرہ 

2''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۷۶۸۹، ج۳، ص۱۰۲.
Flag Counter