Brailvi Books

فضائلِ دعا
182 - 322
نَسْیًا مَّنْسِیًّا)(1)
دعا بَہَلاک نہیں بلکہ آرزو اور تمنا زمانہ ماضی کی ہے اور ''رنج ومصیبت سے گھبرانے''کی قید اس لیے ہم نے ذکر کی کہ یہ دعا(یعنی مرنے کی دعا)بسببِ شوقِ وصلِ الٰہی واشتیاقِ لقائے صالحین درست ہے۔

    حضرت سیدنا یوسف علیہ الصلاۃ والسلام دعا کرتے ہیں:
    (تَوَفَّنِیۡ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ)(2)
اسی طرح جب دین میں فتنہ دیکھے تو اپنے مرنے کی دعا جائز ہے۔ 

    حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول ہے:
    ((إذا أردتَ بقوم فتنۃ فاقبضني إلیک غیر مفتون)).(3)
    حدیث میں ہے:فرماتے ہیں:''کوئی تم سے موت کی آرزو نہ کرے مگر جب کہ اعتماد نیکی کرنے پر نہ رکھتا ہو۔''(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1ترجمہ کنز الایمان :''ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اوربھولی بِسری ہوجاتی ۔''

(پ۱۶، مریم: ۲۳)

2ترجمہ کنزالایمان: ''مجھے مسلمان اُٹھا اوران سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں ۔''

(پ۱۳، یوسف: ۱۰۱)

3 اے اللہ! جب تو کسی قوم کے ساتھ عذاب وگمراہی کا ارادہ فرمائے (ان کے اعمالِ بد کے سبب) تو مجھے بغیر فتنے کے اپنی طرف اٹھا۔

''سنن الترمذي''، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ ص، الحدیث:۳۲۴۶، ج۵، ص۱۶۱.

4''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۸۶۱۵، ج۳، ص۲۶۳.
Flag Counter