((إذا أردتَ بقوم فتنۃ فاقبضني إلیک غیر مفتون)).(3)
حدیث میں ہے:فرماتے ہیں:''کوئی تم سے موت کی آرزو نہ کرے مگر جب کہ اعتماد نیکی کرنے پر نہ رکھتا ہو۔''(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1ترجمہ کنز الایمان :''ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اوربھولی بِسری ہوجاتی ۔''
(پ۱۶، مریم: ۲۳)
2ترجمہ کنزالایمان: ''مجھے مسلمان اُٹھا اوران سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں ۔''
(پ۱۳، یوسف: ۱۰۱)
3 اے اللہ! جب تو کسی قوم کے ساتھ عذاب وگمراہی کا ارادہ فرمائے (ان کے اعمالِ بد کے سبب) تو مجھے بغیر فتنے کے اپنی طرف اٹھا۔
''سنن الترمذي''، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ ص، الحدیث:۳۲۴۶، ج۵، ص۱۶۱.
4''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۸۶۱۵، ج۳، ص۲۶۳.