| فضائلِ دعا |
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:رنج کے سبب سے موت کی آروز نہ کرو، اگر ناچار ہو جاؤ کہو:
((اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِيْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِّيْ وَتَوَفَّنِيْ إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّيْ)).
''خدا یا مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور مجھے وفات دے جس وقت موت میرے حق میں بہتر ہو۔''(1)
ایک شخص نے پوچھا: بہتر لوگوں کا کون ہے؟(یعنی لوگوں میں سے بہترین شخص کون ہے؟)فرمایا: ''جس کی عمر دراز ہو اور کام اچھے۔''عرض کی:بدتر لوگوں کا کون ہے؟ فرمایا:''جس کی عمر بڑی ہو اور کام برے۔''(2)
پس نیکو کار کے واسطے زندگی نعمت اور بدکار کے لیے زندگی نقِمت (سزا)، مگر تمنا موت کی اس خیال سے کہ جس قدر جیونگا (زندہ رہونگا)زیادہ گناہ کرونگا، نادانی ہے، اگر گناہوں کو بُرا جانتا ہے تو ان کے تَرْک پر مُسْتَعِد(تیار)ہو(3)اور عمر دراز طلب کرے تا(کہ)عبادت وریاضت سے ان کا تدارُک (تلافی)کرے(اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ ؕ)(4)
حضرت مریم
سَلَامُ اللہِ عَلَیْہَا
کا فرمانا:
( یٰلَیۡتَنِیۡ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنۡتُ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''سنن النساءي''، کتاب الجنائز، باب تمني الموت، الحدیث: ۱۸۱۷-۱۸۱۸، ص۳۱۱. و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۱۹۷۹، ج۴، ص۲۰۲. 2 ''سنن الترمذي''، ابواب الزہد، باب منہ، ج۴، ص ۱۴۸، الحدیث: ۲۳۳۷. 3 یعنی: اگر گناہوں کو بُرا جانتا ہے تو گناہ چھوڑنے پر کمر بستہ ہو۔ 4 ترجمہ کنز الایمان: ''بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ ''(پ۱۲، ھود: ۱۱۴)