| فضائلِ دعا |
مانگ۔''(1)مطلب اس کا یہ ہے کہ تمام توجہ اپنی میری طرف رکھ غیر سے اصلاً تعلق نہ کر، جو مانگ مجھ ہی سے مانگ، اگر اَحیاناً(کبھی کبھار)کسی خسیس (کمتر اورحقیر) چیز کی ضرورت ہو، مجھ سے سوال کر نہ یہ کہ خسیس ہی سوال کیا کر، اور تحقیق یہ ہے کہ یہ امر باختلافِ احوال مختلف ہے جس وقت خدا کے عموم کرم وقدرت اور اپنی عاجزی واحتیاج پر نظر ہو اور باوجود اس کے خسیس حقیر چیز کی ضرورت ہو، دوسرے سے سوال کرنا اور غیر کے سامنے ہاتھ پھیلانا قبول نہ کرے، اس قسم کا سوال خدا سے مضائقہ نہیں رکھتا، ہاں بِلا ضرورت خسیس چیز مانگنا حماقت ہے، عمدہ شئے مانگے کہ خدا کریم ہے اور ہر چیز پر قادر۔
قال الرضاء: دنیا ذلیل اور اس کی تمام متاع بآں کثرت (باوجود بہت ہونے کے)نہایت قلیل(قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ)(2)
وہ مسلمان کے لیے زادِ مسافر (توشہ مسافر)ہے اور زاد بقدرِ حاجت درکار ہوتا ہے نہ لادنے کو، ولہٰذا اس میں زیادہ کی ہَوس کثرت کی طلب مَبْغُوض (ناپسند)ٹھہری
(اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿۱﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿۲﴾)(3)
اوربے ضرورتِ شرعیہ غیروں کے دروازے پر بھیک مانگنے کی اجازت نہیں تو اَب حاجت موجود اور غیر سے مانگنا نامحمود اور زیادہ کی ہوس بھی مردود، لَا جَرَم (یقینا)نمک کی کَنکری بھی رَب ہی سے مانگیں گے اور اس کی جگہ یہ نہ کہیں گے کہ نمک کا پہاڑ دیدے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب لیسأل أحدکم ربہ حاجتہ کلھا، الحدیث: ۳۶۲۴، ج۵، ص۳۴۹. 2ترجمہ کنز الایمان: ''تم فرما دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے۔''(پ۵، النساء: ۷۷) 3ترجمہ کنز الایمان:''تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔'' (پ۳۰، التکاثر: ۱-۲)