| فضائلِ دعا |
اور یہ بھی آیاہے:''جب تو دعا مانگے بہت مانگ کہ تو کریم سے مانگتا ہے۔''(1)
اے عزیز! وہ کریم ورحیم ہے، بے مانگے کروڑوں نعمتیں تیرے حوصلہ ولیاقت سے زیادہ تجھے عطا کرتا ہے۔اگر تو اس سے مانگے گا کیا کچھ نہ پائے گا۔ ولنعم ما قیل (اور کیا ہی خوب کہا گیا ہے) ؎آنکہ ناخواستہ عطا بخشد گر تو خواہش کنی چہابخشد (2) بادشاہ ہے ست او اگر خواہد ہر دو عالم بیک گدا بخشد (3)
اور وہ جو حدیث میں ہے کہ ''جوتے کا دُوال(تسمہ)ٹوٹے تو وہ بھی خدا سے مانگ''(4)اور بعض مخاطباتِ موسیٰ علیہ السلام میں ہے: ''ہانڈی کا نمک بھی مجھ سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1''صحیح ابن حبان''، کتاب الأدعیۃ، ذکر استحباب الإکثار في السؤال ...إلخ، الحدیث: ۸۸۶، ج۲، ص۱۲۴، بألفاظ متقاربۃ.
2 ع بن مانگے عطا فرماتا ہے محروم کبھی پھیرا ہی نہیں
فریاد اگر تو کرلے کبھی پھر دیکھو عطاؤں کی بارش
3 ع تو بادشاہ ہے اے مرے مالک ! گدا کو تُو
اگر چاہے عطا کر دے دو عالَم آنِ واحد میں
4 ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب لیسأل أحدکم ربہ حاجتہ کلھا، الحدیث: ۳۶۲۳، ج۵، ص۳۴۹.