| فضائلِ دعا |
مسئلہ۴:قطعِ رِحم (یعنی عزیزوں سے تعلّق توڑنے )کی دعانہ کرے، مثلاً: فلاں وفلاں رشتہ داروں میں لڑائی ہو جائے۔
حدیث میں ہے: ''مسلمان کی دعا قبول ہوتی ہے، جب تک ظلم وقطع رحم کی درخواست نہ کرے۔(1)
قال الرضاء: قطع رحم بھی ایک قسمِ اِثْم ہے (یعنی گناہ کی قسم ہے)، جسے بوجہِ شدتِ اہتمام احادیث، باب میں اثم پر عطف فرمایا:((ما لم یدع بإثم أو قطیعۃ رحم))
(جب تک گناہ یاقطع رحم کی دعا نہ کرے)(2) اسی لیے مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، نے باتباعِ احادیث اسے مسئلہ جداگانہ ٹھہرایا۔)o
مسئلہ۵:اللہ تعالیٰ سے حقیر چیز نہ مانگے کہ پروردگار غنی ہے، اگر تمام خَلق کو ایک ساعت میں ان کے حوصلے سے زیادہ بخشے، اس کے خزانے میں کچھ نقصان نہ ہو۔
حضرت اِمام المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب مانگو خدا سے تو فردوس مانگو کہ وہ اَوسط بہِشت اور اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر ہے عرش رحمن کا، اور اسی سے جاری ہوتی ہیں نہریں بِہِشت کی۔'' (3)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ما جاء أنّ دعوۃ المسلم مستجابۃ، الحدیث: ۳۳۹۲، ج۵، ص۲۴۸. 2المرجع السابق. 3 ''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب:(وَکَانَ عَرْشُہ، عَلَی الْمَاءِ)، الحدیث: ۷۴۲۳، ج۴، ص۵۴۷.