Brailvi Books

فضائلِ دعا
176 - 322
حضرات انبیاء واولیاء علیھم الصلاۃ والسلام کو وقت اِظہار معجزہ وکرامت بغرضِ ارشاد وہدایت واِتمامِ حُجَّت (لوگوں کی ہدایت اور ان پر حجت قائم کرنے کے کیلئے) باذن اللہ تعالیٰ جائز ہے۔ اوروں کا عالَمِ اسباب میں ہو کر ایسی بات مانگنا اپنی حد سے بڑھنا اور جہل وسفاہت میں پڑناہے۔
 (کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ)
    ''جیسے کوئی اپنے ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے کہ پانی خود اس کے منہ میں پہنچ جائے اور ہر گز نہ پہنچے گا۔''
 (پ۱۳، الرعد: 14o ()
    مسئلہ۲: لغو اور بے فائدہ دعا نہ کرے۔

    ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما حکایت کرتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا سنوسؔ (1)نامی، اُسے حکم ہوا کہ تین۳ دعائیں تیری قبول ہوں گی اپنی عورت کے لیے دعا کی تمام بنی اسرائیل کی عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہوگئی غرور وشرور کرنے اور شوہر کو ستانے لگی ایک دن اس سے خفا ہو کر کہا:خدا تجھے کُتیا کر دے اسی وقت کُتیا ہو گئی پھر بیٹوں کی سفارش سے اس کے لیے دعا کی:الٰہی!اسے اصلی صورت پر کر دے جو صورت پہلے تھی وہی ہو گئی اور تینوں دعائیں مفت ضائع ہوئیں۔(2)

    مسئلہ ۳:گناہ کی دعا نہ کرے کہ مجھے پرایا مال مل جائے یاکوئی فاحشہ زنا کرے کہ گناہ کی طلب بھی گناہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 قد وجدنا اسمہ : بسوس.

2''تفسیر البغوي''، الأعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ج۲، ص۱۸۰.

و''تفسیر الخازن''، الأعراف، تحت الآیۃ: ۱۷۵، ج۲، ص۱۶۰.
Flag Counter