Brailvi Books

فضائلِ دعا
175 - 322
داخل ہیں۔ ولہٰذا ان سے عافیت مانگی گئی اور اسی لیے حدیث شریف میں:
((أَعُوْذُ بِکَ مِنْ سَيِّءِ الْأَسْقَامِ))(1)
بُرے امراض کی قید لگا کر پناہ طلب کی تو
''تَمَامَ الْعَافِیَۃِ وَدَوَام''
کا یہی مَحْمَل اور کلامِ فقہاء سے تنافی زائل(2)

     اسی طرح علامہ قرافی وعلامہ لقانی وغیرھما نے اسی سے شمار کیا:دونوں جہاں کی بھلائی مانگنا یعنی اگر یہ مقصود ہو کہ دارین کی سب خوبیاں دے کہ ان خوبیوں میں مراتبِ اَنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام بھی ہیں جو اسے نہیں مل سکتے ۔o)(3)    

اور اسی میں داخل ہے ایسے اَمْرکے بدلنے کی دعا مانگنا جس پر قلم جاری ہو چکا، مثلاً: لمبا آدمی کہے: میرا قد کم ہو جائے، یا چھوٹی آنکھوں والا: میری آنکھیں بڑی ہو جائیں۔ 

    قال الرضاء: اگرچہ محالِ عقلی کے سوا کہ اصلا ًصلاحیتِ قدرت نہیں رکھتا، سب کچھ زیر قدرتِ الٰہیہ داخل ہے۔ مگر خلافِ عادت بات کی خواستگاری (درخواست)صرف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی اے اللہ! میں برے امراض سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔

''سنن أبي داود''، کتاب الوتر، باب في الاستعاذۃ، الحدیث: ۱۵۵۴، ج۲، ص۱۳۲.

2 ھماری مذکورہ بالا بحث سے وہ حدیث پاک جس میں''اِلٰہی! میں تجھ سے مانگتا ہوں عافیت اور عافیت کی تمامی اور عافیت کی ہمیشگی'' فرمایا گیا اور کلامِ فقہاء جو ابھی''دُرِّ مختار'' کے حوالے سے گزرا ''کہ ہمیشہ کے لئے تندرستی وعافیت مانگنا کہ آدمی کا عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکلیف میں نہ پڑنا بھی محال عادی ہے''کے مابین پیدا ہونے والا یہ ظاہری تعارض دور ہوگیا اور یہی ''تَمَامَ الْعَافِیَۃ'' کا مفہوم ہے کہ ناقابلِ برداشت بَلاؤں سے حفاظت رہے۔

3 ''أنوار البروق''، الفرق الثالث والسبعون والمائتان، القسم الثاني، ج۴، ص۴۵۳.
Flag Counter