''اِلٰہی! میں تجھ سے مانگتا ہوں عافیت اور عافیت کی تمامی اور عافیت کی ہمیشگی۔''(1)
مگر یہ کہ ''تَمَامَ الْعَافِیَۃِ'' سے دین ودنیا وروح وجسم کی عافیت ہر بَلاسے مراد ہو جو حقیقۃً بَلا ہے، یا ناقابلِ برداشت اگرچہ بنظر اجر وجزا، نعمت وعطا ہے۔(2)دِین میں عقیدۃً وعملاً کسی قسم کا نَقص مطلقاً بَلا ہے اور روح پر غم وفکرِ عُقبیٰ کے سوا (آخرت کی فکر کے علاوہ)اور ہر غم وپریشانی مطلقاً رنج وعَنا ہے (یعنی رنج وتکلیف ہے)اور جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار، زکام، دردِ سر اور ان کے مثل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے )تو اِستغفار واِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں)کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی ہو(یعنی خدانخواستہ توجہ نہ ہٹالی گئی ہو)۔ ہاں!سخت امراض مثل جُنون وجُذام