Brailvi Books

فضائلِ دعا
173 - 322
    ''اِلٰہی! میں تجھ سے مانگتا ہوں عافیت اور عافیت کی تمامی اور عافیت کی ہمیشگی۔''(1)

    مگر یہ کہ ''تَمَامَ الْعَافِیَۃِ'' سے دین ودنیا وروح وجسم کی عافیت ہر بَلاسے مراد ہو جو حقیقۃً بَلا ہے، یا ناقابلِ برداشت اگرچہ بنظر اجر وجزا، نعمت وعطا ہے۔(2)دِین میں عقیدۃً وعملاً کسی قسم کا نَقص مطلقاً بَلا ہے اور روح پر غم وفکرِ عُقبیٰ کے سوا (آخرت کی فکر کے علاوہ)اور ہر غم وپریشانی مطلقاً رنج وعَنا ہے (یعنی رنج وتکلیف ہے)اور جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار، زکام، دردِ سر اور ان کے مثل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے )تو اِستغفار واِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں)کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی ہو(یعنی خدانخواستہ توجہ نہ ہٹالی گئی ہو)۔ ہاں!سخت امراض مثل جُنون وجُذام
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''جامع الأحادیث'' للسیوطي، المسانید والمراسیل، مسند علي بن أبي طالب، الحدیث: ۶۰۲۸، ج۱۵، ص۳۴۳.

2مگر یہ کہ یہاں حدیثِ پاک میںــ''تَمَامَ الْعَافِیَۃِ''سے دین ودنیااورجسم وروح کا ہر بَلا سے محفوظ ہونا مراد ہے یا پھرناقابلِ برداشت بلاؤں سے محفوظ ہونا مراد ہے اگرچہ اس پر صبر کرنا بھی اجر وثواب کاباعث ہے، مختصر یہ کہ ''تَمَامَ الْعَافِیَۃِ'' سے ہر طرح کی بَلا سے محفوظ ہونا ہرگز مراد نہیں کیونکہ بعض بلائیں، مثلاً:ہلکا بخار، زکام اور دردِ سر وغیرہ مصیبت وبَلا نہیں بلکہ ایک طرح کی نعمت ہیں جیساکہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آگے خود وضاحت فرمارہے ہیں۔
Flag Counter