Brailvi Books

فضائلِ دعا
172 - 322
 		فصل ہفتم کن کن باتوں کی دعا نہ کرنی چاہیے ؟
    قال الرضاء:اس میں پند۱۵ رہ مسئلے ہیں، با۱۲رہ ارشادِ حضرت مُصَنِّف عَلَّام اور تین مُلحَقاتِ فقیر مُسْتَہام(1) ۔)o 

    مسئلہ اُولیٰ: دعا میں حد سے نہ بڑھے، مثلاً: انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کا مرتبہ مانگنا یا آسمان پر چڑھنے کی تمنا کرنا، اسی طرح جو چیزیں مُحال(2)(ناممکن)یا قریب بہ محال ہیں نہ مانگے۔
 ( اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ).(3)
    قال الرضاء: ''دُرّ ِمختار'' وغیرہ میں اسی قبیل سے گِنا: ہمیشہ کے لئے تندرستی وعافیت مانگنا کہ آدمی کا عمر بھر کبھی کسی طرح کی تکلیف میں نہ پڑنا بھی محال عادی(4) ہے۔(5)

    أقول: مگر حدیث شریف میں ہے :
    ((اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ وَتَمَامَ الْعَافِیَۃِ وَدَوَامَ الْعَافِیَۃِ)).
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی حضرتِ مصنِّف علیہ الرحمہ کے بارہ ارشادات کے ساتھ اس فقیر کی تین گزارشات۔

2 محال : جس کا وجود بداہۃً متصوَّر نہ ہو جیسے جسم کاحرکت وسکون سے عاری ہونا یا نظری طور پر غیر متصور ہو جیساکہ شریکِ باری تعالیٰ کاوجود۔        (''المعتقد المنتقد''(مترجم)،ص۳۴)

محال کی تین قسمیں ہیں:(۱)محالِ عقلی(۲)محالِ شرعی (۳)محالِ عادی

اس بارے میں مزید تفصیل کیلئے ''المعتقد المنتقد'' ملاحظہ فرمائیں۔

3 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔'' (پ: ۲، البقرۃ: ۱۹۰)

4 محال عادی سے مراد یہ ہے کہ عموماً یا عادتاً ایسا ہوتا نہ ہو مگر اس کا ہونا نا ممکن بھی نہ ہو، کبھی کسی حکمت کے تحت ہو بھی سکتا ہو، مثلاً کسی شخص کا ہمیشہ کیلئے صحت مند رہنا بیمار نہ پڑنا۔ 

5 ''الدرّ المختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۲۸۷.
Flag Counter