((اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ وَتَمَامَ الْعَافِیَۃِ وَدَوَامَ الْعَافِیَۃِ)).
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی حضرتِ مصنِّف علیہ الرحمہ کے بارہ ارشادات کے ساتھ اس فقیر کی تین گزارشات۔
2 محال : جس کا وجود بداہۃً متصوَّر نہ ہو جیسے جسم کاحرکت وسکون سے عاری ہونا یا نظری طور پر غیر متصور ہو جیساکہ شریکِ باری تعالیٰ کاوجود۔ (''المعتقد المنتقد''(مترجم)،ص۳۴)
محال کی تین قسمیں ہیں:(۱)محالِ عقلی(۲)محالِ شرعی (۳)محالِ عادی
اس بارے میں مزید تفصیل کیلئے ''المعتقد المنتقد'' ملاحظہ فرمائیں۔
3 ترجمہ کنز الایمان: ''اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔'' (پ: ۲، البقرۃ: ۱۹۰)
4 محال عادی سے مراد یہ ہے کہ عموماً یا عادتاً ایسا ہوتا نہ ہو مگر اس کا ہونا نا ممکن بھی نہ ہو، کبھی کسی حکمت کے تحت ہو بھی سکتا ہو، مثلاً کسی شخص کا ہمیشہ کیلئے صحت مند رہنا بیمار نہ پڑنا۔
5 ''الدرّ المختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۲۸۷.