تنبیہ:
أقول: کسی صورت میں دعا قبول نہ ہونا یقینی قطعی نہیں، نہ اس سے یہ مراد کہ ایسی حالتوں میں دعا کو محض فضول ونامقبول جان کر باز رہیں، حاشا!(ہرگز ایسا نہیں بلکہ)دعا سلاحِ اہلِ ایمان ہے (یعنی دعا ایمان والوں کا ہتھیار ہے)، دعا جالبِ امن وامان ہے (یعنی دعا امن وامان لانے والی ہے)،دعا نورِ زمین وآسمان ہے، دعا باعث رِضائے رحمن ہے، بلکہ مقصود ان اُمور سے روکنا ہے کہ یہ دعا واجابت میں حجاب اور اثر کے لئے سدِّ باب ہوتے ہیں، تو ان سے بچنا لازم اور جس سے واقع ہولئے اگر ہَنُوز (ابھی تک)موجود ہیں تو ان کا اِزالہ ضرور، جیسے: مالِ حرام کہ جس سے لیا ہے واپس دے وہ نہ رہا اس کے وارث کو دے یا ان سے معاف کرائے، کوئی نہ ملے تو صدقہ کر دے اور جو گزر چکے توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے ترک ِاصرار کا عزمِ صحیح کرے، اس کی برکت ان کی نحوست کو زائل کر دے گی اور دُعا بِإِذْنِہٰ تَعَالٰی اپنا اثر دے گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1اس حدیث کو بزار نے اور طبرانی نے ''المعجم الأوسط''میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سندِ حسن کے ساتھ روایت کیا۔
''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۱۳۷۹، ج۱، ص۳۷۷.