Brailvi Books

فضائلِ دعا
170 - 322
دیکھنے کا احتمال ہے۔(1) 

    یہ سب اُمور حدیثوں میں ماثور (وارد)اور اسی قسم کے اور صدہا آداب احادیث میں مذکور اور کتب آئمہ وعلماء میں مسطور (ائمہ دین وعلما کی کتابوں میں مذکور ہیں)جن کی شرح کے لئے مجلدات (یعنی کئی جلدیں)بھی کافی نہیں۔

    بر بنائے تقریر مذکور ان سب صورتوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ان خاص مادّوں میں ان لوگوں کی دعا قبول نہ ہوگی کہ انہوں نے خود خلافِ حکم شرع کر کے مواقع مضرّت میں قدم رکھا اور خادمِ حدیث جانتا ہے کہ اکثر حدیث میں بعض باتوں کا تذکرہ اور ان کے ذکر سے ان کے ہزار اَمثال کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔
ھذا ما عندي واللہ تعالٰی أعلم
 (جو کچھ بیان ہوا یہ میرے نزدیک ہے اور اللہ عزوجل سب سے بہتر جاننے والا ہے۔)

    سبب ۱۵:
أَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ
نہ کرنا (یعنی نیکی کا حکم نہ کرنا اور برائی سے نہ روکنا)۔

    یعنی کسی جماعت میں کچھ لوگ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتے ہوں دوسرے خاموش رہیں اور حتی المقدور انہیں باز نہ رکھیں منع نہ کریں کہ ہر ایک کے اعمال اس کے ساتھ ہیں ہمیں روکنے، منع کرنے سے کیا غرض، تو جو بَلا آئے گی اس میں نیکوں کی دعا بھی نہ سنی جائے گی کہ یہ خود نہی وامر چھوڑ کر تارکِ فرائض تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی ہوسکتا ہے کہ اس کے گھرو الے ایسی حالت میں ہوں کہ اسے ناپسند ہے اور انہیں ایسی حالت میں دیکھ کر اسے دکھ وتکلیف پہنچے۔

نوٹ: آدابِ سفر جاننے کیلئے ''بہارِ شریعت''، سولہواں حصہ،صفحہ ۲۹۱ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کا مطالعہ فرمائیں۔
Flag Counter