| فضائلِ دعا |
یا عورت۹ سے ہمبستری کے وقت بِسْمِ اللہِ نہ کہے کہ شیطان شریک ہو جاتا اور
اپنا عضو اس کے عضو کے ساتھ داخل کرتا ہے(1)جس کے باعث بچہ انسان وشیطان دونوں کے نطفے سے بنتا اور پھر بُرا تُخْم(خراب بیج)بُرا ہی پھل لاتا ہے(2)
یا کھانا۱۰بغیر بِسْمِ اللہِ کے کھائے(3)کہ شیطان ساتھ کھاتا اور جو طعام چند مسلمانوں کو بس کرتا (کافی ہوتا) ایک ہی کے کھانے میں فنا (ختم)ہو جاتا ہے۔(4)
یا زمین۱۱ کے سوراخوں میں پیشاب کرے کہ کبھی سانپ وغیرہ جانوروں کا گھر یا جِنّ کا مکان ہوتا اور انسان ایذا پاتا ہے(5)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1''فتح الباري''، تحت الحدیث: ۵۱۶۵، کتاب النکاح، ج۹، ص۱۹۶. 2ہمبستری کے وقت بسم اللہ شریف پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ ستر کھولنے سے پہلے ہی پڑھ لے کہ کھلے ستر پڑھنا جائز نہیں، یہی احتیاط استنجاء خانہ جاتے وقت بھی ملحوظ رکھیں کہ استنجاء خانے سے باہر ہی بسم اللہ شریف اور دعا پڑھ لی جائے۔ 3حدیث پاک میں وارد کہ کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا اگر بھول جائے اوردرمیان میں یاد آئے تو یوں کہے:((بِسْمِ اللہِ أَوَّلَہٗ وَآخِرَہ،))''اللہ کے نام سے کھانے کی ابتداء اورانتہاء ۔'' ''سنن أبي داود''، کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام، الحدیث: ۳۷۶۷، ج۳، ص۴۸۷. نوٹ! یہاں جہاں کہیں بھی بسم اللہ شریف پڑھنے کا ذکر ہے اس سے پوری ''بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ'' مراد ہے۔ 4''سنن أبي داود''، کتاب الأطعمۃ، باب التسمیۃ علی الطعام، الحدیث:۳۷۶۶، ج۳، ص۴۸۷. 5''سنن النساءی''، کتاب الطھارۃ، باب کراہیۃ البول فی الجحر، الحدیث:۳۴، ص۱۴. و''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الطھارۃ، الحدیث: ۳۵۴، ج۱، ص۸۴. و''المرقاۃ''، تحت الحدیث: ۳۵۴، ج۲، ص۷۲.