Brailvi Books

فضائلِ دعا
165 - 322
أقول:اس تقدیر پر اور بہت لوگ ایسے نکل سکتے ہیں جو خود کردہ کا علاج ڈھونڈتے ہوں مثلاً: جو بغیر۱ کسی سخت مجبوری کے رات کو ایسے وقت گھر سے باہر نکلے کہ لوگ سو گئے ہوں پاؤں کی پہچل(پاؤں کی آہٹ/آواز) راستوں سے موقوف ہوگئی ہو۔ صحیح حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی کہ اس وقت بلائیں منتشر ہوتی ہیں۔(1) 

    یا رات ۲ کو دروازہ کھلا چھوڑ دے یا بغیر۳۱ بِسْمِ اللہِ کہے بند کرے کہ شیطان اسے کھول سکتا ہے اور جب بِسْمِ اللہِ کہہ کر دہنا پاؤں مکان میں رکھے تو شیطان کہ ساتھ آیا تھا باہر رہ جاتا ہے اور جب بِسْمِ اللہ ِکہہ کر دروازہ بند کرے تو اس کے کھولنے پر قدرت نہیں پاتا۔

     یا کھانے۴، پانی کے برتن بِسْمِ اللہِ کہہ کر نہ ڈھانکے کہ بلائیں اترتی اور خراب کر دیتی ہیں، پھر وہ طعام وشراب (کھانا وپانی)بیماریاں لاتے ہیں۔(2) 

    یا بچے۵ کو مغرب کے وقت گھر سے باہر نکالے کہ اس وقت شیاطین منتشر ہوتے ہیں۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''المعجم الأوسط'' للطبراني، الحدیث: ۱۳۴۵، ج۱، ص۳۶۹. 

و''مسند أبي یعلی''، الحدیث: ۲۳۲۳، ج۲، ص۳۶۶.

2''صحیح البخاري'' کتاب الأشربۃ، باب تغطیۃ الإناء، الحدیث: ۵۶۲۳، ج۳، ص۵۹۱.

و''صحیح مسلم''، کتاب الأشربۃ، باب الأمر بتغطیۃ الإناء... إلخ، الحدیث:۲۰۱۲، ص۱۱۱۴.

3''المعجم الکبیر'' للطبراني، الحدیث: ۱۱۰۹۴، ج۱۱، ص۶۳.
Flag Counter