دوسرا وہ جس نے اپنا مال فضول خرچیوں میں کھو دیا، اب کہتا ہے:اے رب! مجھے اور دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:کیا میں نے تجھے میانہ روی کا حکم نہ دیا تھا؟ کیا تو نے میرا اِرشاد نہ سنا تھا؟
(وَالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا )(1)
تیسرا وہ کہ ایسے لوگوں میں مقیم رہے جو اسے ایذا دیتے ہیں اور دعا کرے:اے رب میرے! مجھے ان کے شر سے کفایت کر، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:کیا میں نے تجھے ہجرت کا حکم نہ دیا؟ کیا میرا اِرشاد نہ سنا:
(اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ(2))۔ (3)
یہ تقریر بھی بحمد اللہ اس معنئ فقیر کی مؤید ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1ترجمہ کنز الایمان: ''اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔ ''(پ۱۹، الفرقان: ۶۷)
2 ترجمہ کنز الایمان: ''کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے۔''
(پ۵، النسآء: ۹۷)
3''غمز عیون البصائر''، الفن الثالث، فائدۃ: ثلاثۃ لا یستجاب دعاء ہم، ج۳، ص۲۵۳.